الفتح الربانی
كتاب الصلاة— نماز کی کتاب
2 - بَابُ فَضْلِ الْأَذَانِ وَالْمُؤَذِّنِينَ وَالْأَئِمَّةِ باب: اذان، اذان کہنے والوں اور اماموں کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1246
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((يَعْجَبُ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ رَاعِي غَنَمٍ فِي رَأْسِ الشِّعْبِ لِلْجَبَلِ يُؤَذِّنُ بِالصَّلَاةِ وَيُصَلِّي، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَٰذَا، يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ يَخَافُ شَيْئًا، قَدْ غَفَرْتُ لَهُ وَأَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا ربّ عزوجل پہاڑ کی چوٹی پر اذان کہہ کر نماز ادا کرنے والے بکریوں کے چرواہے پر تعجب کرتا (یعنی خوش ہوتا) ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے اس بندے کی طرف دیکھو کہ اذان کہتا ہے اور اقامت کہتا ہے، یہ کسی ذات سے ڈرتا ہے، یقینا میں نے اسے بخش دیا اور جنت میں داخل کر دیا ہے۔