حدیث نمبر: 12458
عَنِ الزُّبَيْرِ يَعْنِي ابْنَ عَدِيٍّ قَالَ شَكَوْنَا إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَا نَلْقَى مِنَ الْحَجَّاجِ فَقَالَ اصْبِرُوا فَإِنَّهُ لَا يَأْتِي عَلَيْكُمْ عَامٌ أَوْ يَوْمٌ إِلَّا الَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ حَتَّى تَلْقَوْا رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

زبیر بن عدی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہم نے حجاج کے مظالم کا سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے شکوہ کیا،انہوں نے کہا: صبر کرو، میں نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تم پر جو بھی دن اور سال آتا ہے، اس سے بعد والا دن اور سال پہلے سے بدتر ہوتا ہے، یہاں تک کہ تم اپنے رب عزوجل سے جا ملو گے۔

وضاحت:
فوائد: … فرمودۂ نبوی کے مطابق رضی اللہ عنہا آج بھی حکمرانوں کا یہی سلسلہ جاری ہے، ہر نئے حکمران کے کردار سے پتہ چلتا ہے کہ اس سے پہلے والا اس سے بہتر تھا، جبکہ لوگوں کی امیدیں نئے حکمران سے وابستہ ہوتی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12458
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 7068، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12347 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12372»