الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْبَابُ السَّادِسُ فِي بَعْثِهِ أَيْضًا إِلَى مَكَّةَ بَعْدَ قَتْلِ مُصْعَبِ بِالْعِرَاقِ لِقَتْلِ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ فَقَتَلَهُ بِهَا وَلَمْ يُرَاعِ حُرْمَةَ الْبَيْتِ باب: ششم: اس امر کابیان کہ عراق میںمصعب کو قتل کرنے کے بعد عبدالملک نے حجاج کو سیدنا عبداللہ زبیر رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کے لیے مکہ مکرمہ روانہ کیا اور اس نے بیت اللہ کی حرمت کو پامال کیا
حدیث نمبر: 12457
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ فِي ثَقِيفٍ مُبِيرًا وَكَذَّابًا“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قبیلہ ثقیف میں ایک ہلاک کرنے والا یعنی خون ریز آدمی ہوگا اور ایک جھوٹا۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کی شرح کے لیے حدیث نمبر (۱۲۴۵۳)کے فوائد کا مطالعہ کریں۔