حدیث نمبر: 12452
عَنْ أَبِي عُكَّاشَةَ الْهَمْدَانِيِّ قَالَ قَالَ رِفَاعَةُ الْبَجَلِيُّ دَخَلْتُ عَلَى الْمُخْتَارِ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَصْرَهُ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ مَا قَامَ جِبْرِيلُ إِلَّا مِنْ عِنْدِي قَبْلُ قَالَ فَهَمَمْتُ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ فَذَكَرْتُ حَدِيثًا حَدَّثَنَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ ”إِذَا أَمَّنَكَ الرَّجُلُ عَلَى دَمِهِ فَلَا تَقْتُلْهُ“ قَالَ وَكَانَ قَدْ أَمَّنَنِي عَلَى دَمِهِ فَكَرِهْتُ دَمَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ابو رفاعہ بجلی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں مختار بن ابی عبید کے پاس اس کے محل میں داخل ہوا، میں نے سنا وہ کہہ رہاتھا کہ میرا بھائی جبرئیل ابھی میرے ہاں سے گیا ہے، اس کی یہ بات سن کر میں نے ارادہ کیا کہ اس کی گردن اڑادوں، پھر مجھے ایک حدیث یاد آئی جو مجھ سے سلیمان بن صرد نے بیان کی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی اپنے خون پر تم کو امین سمجھ لے تو اسے قتل نہ کرنا۔ اور اس مختار نے مجھ سے اپنی جان کی امان طلب کی ہوئی تھی، اس لیے میں نے اسے قتل کرنا مناسب نہ سمجھا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12452
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن ميسرة، ولجھالة ابي عكاشة الھمداني، اخرجه ابن ماجه: 2689، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27207 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27749»