الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
خُرُوجُ الْمُخْتَارِ باب: مختار ثقفی کا ظہور
حدیث نمبر: 12451
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ قَالَ كُنْتُ أَقُومُ عَلَى رَأْسِ الْمُخْتَارِ فَلَمَّا عَرَفْتُ كَذِبَهُ هَمَمْتُ أَنْ أَسُلَّ سَيْفِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ فَذَكَرْتُ حَدِيثًا حَدَّثَنَاهُ عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ أَمَّنَ رَجُلًا عَلَى نَفْسِهِ فَقَتَلَهُ أُعْطِيَ لِوَاءَ الْغَدْرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) رفاعہ کہتے ہیں:میں مختار کے سر پر کھڑا تھا،جب مجھے اس کے جھوٹا ہونے کا یقین ہوگیا تو میں نے ارادہ کیا کہ تلوار سونت کر اس کی گردن اڑا دوں، لیکن مجھے وہ حدیث یاد آگئی جو سیدنا عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ نے بیان کی تھی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی کسی کو اس کی جان کی امان دینے کے بعد اس کو قتل کر دے تو قیامت کے دن اسے دھوکے والا جھنڈا دیاجائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … مختار بن ابی عبید ثقفی، یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ عراق میں رہتا تھا، ان کی شہادت کے بعد اس نے بصرہ میں سکونت اختیار کی، پھر سیدنا عبدا للہ بن زیبر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی، انھوں نے اس کو کوفہ کا والی بنا دیا، لیکن اس نے ان کی بیعت توڑ دی اور ابن حنفیہ کی امامت کا دعویدار بن کر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قاتلین کی تلاش شروع کر دی، پھر اس نے نبوت اور اپنے آپ پر نزولِ وحی کا دعوی کر دیا، پس مصعب بن زبیر اس کی طرف متوجہ ہوئے اور اس کو ۶۷ ھ میں قتل کر دیا، مختلف کتب ِ تاریخ میں اس کے حالات پڑھے جا سکتے ہیں۔