حدیث نمبر: 12448
عَنْ أَبِي قَزَعَةَ أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بَيْنَمَا هُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ إِذْ قَالَ قَاتَلَ اللَّهُ ابْنَ الزُّبَيْرِ حَيْثُ يَكْذِبُ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ يَقُولُ سَمِعْتُهَا وَهِيَ تَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”يَا عَائِشَةُ لَوْلَا حَدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَنَقَبْتُ الْبَيْتَ“ قَالَ أَبِي قَالَ الْأَنْصَارِيُّ ”لَنَقَضْتُ الْبَيْتَ حَتَّى أَزِيدَ فِيهِ مِنَ الْحِجْرِ فَإِنَّ قَوْمَكِ قَصَّرُوا عَنِ الْبِنَاءِ“ فَقَالَ الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ لَا تَقُلْ هَذَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَأَنَا سَمِعْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ تُحَدِّثُ هَذَا فَقَالَ لَوْ كُنْتُ سَمِعْتُ هَذَا قَبْلَ أَنْ أَهْدِمَهُ لَتَرَكْتُهُ عَلَى بِنَاءِ ابْنِ الزُّبَيْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

ابو قزعہ سے مروی ہے کہ عبدالملک بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا، اس دوران اس نے کہا: اللہ تعالیٰ ابن زبیر کوہلاک کرے، وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر جھوٹ باندھتا اور کہتا تھا کہ سیدہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اگر تمہاری قوم نئی نئی کفر کو چھو ڑ کر مسلمان نہ ہوئی ہوتی تو میں بیت اللہ کو گرا کر حطیم میں سے کچھ حصہ ا س میں شامل کردیتا، تمہاری قوم قریش نے جب اسے تعمیر کیا تھا تو پور اتعمیر نہیں کر سکے تھے۔ اس کی یہ بات سن کر حارث بن عبداللہ بن ابی ربیعہ نے کہا: امیر المومنین! یہ بات نہ کہیں، میں نے خودسیدہ رضی اللہ عنہا کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، عبد الملک نے کہا: اگر کعبہ کو گرانے سے پہلے میں نے یہ بات سنی ہوتی تو میں بیت اللہ کو ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی تعمیر پر باقی رہنے دیتا۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا عبدا للہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواہش کے مطابق خانہ کعبہ کی تعمیر کی تھی، لیکن ان کے بعد حجاج بن یوسف نے اس گھر کی تعمیر کو سیاسی شکل دے دی اور تعمیر نو کو ختم کر کے پرانے نقشے کے مطابق بیت اللہ کی تعمیر کی، اب خانہ کعبہ کی وہی شکل باقی ہے، جو دورِ جاہلیت میں بنائی گئی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12448
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 1585، ومسلم: 1333، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26151 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26681»