الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْبَابُ الثَّالِثُ فِي بِنَائِهِ الْكَعْبَةِ كَمَا كَانَ يَرْجُو النبي ﷺ باب: سوم: سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواہش کے مطابق کعبہ کی تعمیر کرنا
عَنْ سَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ حَدَّثَتْنِي خَالَتِي عَائِشَةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا ”لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِشِرْكٍ أَوْ بِجَاهِلِيَّةٍ لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ فَأَلْزَقْتُهَا بِالْأَرْضِ وَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ بَابًا شَرْقِيًّا وَبَابًا غَرْبِيًّا وَزِدْتُ فِيهَا مِنَ الْحِجْرِ سِتَّةَ أَذْرُعٍ فَإِنَّ قُرَيْشًا اقْتَصَرَتْهَا حِينَ بَنَتْ الْكَعْبَةَ“سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری خالہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا: اگر تمہاری قوم نئی نئی شرک یاجاہلیت یعنی کفر کو چھوڑ کر نہ آئی ہوتی تو میں کعبہ کو منہدم کر کے زمین کے برابر کر دیتا اور اس کے دو دروازے اس طرح بناتا کہ ایک مشرق کی طرف ہوتا اور دوسرا مغرب کی طرف اور حجر یعنی حطیم میں سے چھ ہاتھ کے برابر جگہ بیت اللہ میں شامل کر دیتا، کیونکہ جب قریش نے اس کی تعمیر کی تھی تو وسائل کی کمی کے باعث وہ اسے کعبہ کی تعمیر میں شامل نہ کر سکے تھے۔