حدیث نمبر: 12445
عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ قَالَ لِي ابْنُ الزُّبَيْرِ حَدِّثْنِي بَعْضَ مَا كَانَتْ تُسِرُّ إِلَيْكَ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ فَرُبَّ شَيْءٍ كَانَتْ تُحَدِّثُكَ بِهِ تَكْتُمُهُ النَّاسَ قَالَ قُلْتُ لَقَدْ حَدَّثَتْنِي حَدِيثًا حَفِظْتُ أَوَّلَهُ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِجَاهِلِيَّةٍ أَوْ قَالَ بِكُفْرٍ قَالَ يَقُولُ ابْنُ الزُّبَيْرِ لَنَقَضْتُ الْكَعْبَةَ فَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ فِي الْأَرْضِ بَابًا يُدْخَلُ مِنْهُ وَبَابًا يُخْرَجُ مِنْهُ“ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ فَأَنَا رَأَيْتُهَا كَذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

اسود سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا: تم مجھے ایسی باتیں بیان کرو،جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تمہارے ساتھ خصوصی طور پر کیا کرتی تھیں اور جن کو وہ لوگوں سے چھپاتی تھیں،اسود نے کہا: انہوں نے مجھے ایک بات بیان کی تھی جس کا ابتدائی حصہ مجھے خوب یاد ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! اگر تمہاری قوم نئی نئی مسلمان نہ ہوئی ہوتی تو میں کعبہ کی عمارت کو گرا کر نئی تعمیر کرتا اور میں اس کے برابر کے دو دروازے بناتا، ایک اندر جانے کے لیے اور دوسرا باہر آنے کے لیے۔ ابو اسحاق کہتے ہیں: میں نے بیت اللہ کو اس انداز سے تعمیر شدہ دیکھا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12445
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 1584، 7243، ومسلم: 405، 406 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24709 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25216»