حدیث نمبر: 1244
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ لَاسْتَهَمُوا عَلَيْهِمَا، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لَاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا)) فَقُلْتُ لِمَالِكٍ: أَمَا يَكْرَهُ أَنْ يَقُولَ الْعَتَمَةَ؟ قَالَ: هَٰكَذَا قَالَ الَّذِي حَدَّثَنِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگ جان لیں کہ اذان کہنے اور پہلی صف کے اندر شامل ہونے میں کیا فضیلت ہے تو وہ ان پر قرعہ ڈالیں اور اگر لوگوں کو پتہ چل جائے کہ نماز کی طرف جلدی پہنچنے میں کیا اجر وثواب ہے تو وہ اس کی طرف ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں اور اگر وہ جان لیں کہ نماز عشاء اور نماز فجر میں کیا اجر ہے تو یہ ان دونوں نمازوں میں ضرور شامل ہوں اگرچہ ان کو گھٹنوں کے بل آنا پڑے۔ عبد الرزاق کہتے ہیں: میں نے مالک سے پوچھا کہ کیا عشاء کی نماز کو عَتَمَۃ کہنا مکروہ نہیں ہے؟ انھوں نے کہا: جس نے مجھے حدیث بیان کی اس نے ایسے ہی کہا تھا۔

وضاحت:
فوائد: … نماز ِ عشاء کو عَتَمَۃ کہنا جائز ہے، تفصیلی بحث آگے گی۔
سیّدناابو سعیدخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگوں کو علم ہو جائے کہ اذان کہنے میں کیا
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1244
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 615، 653، 654، 720، 2689، ومسلم: 437 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7226 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7724»