حدیث نمبر: 12434
وَمِنْ طَرِيقٍ آخَرَ عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الْأَمِيرُ أُحَدِّثْكَ قَوْلًا قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْغَدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حَيْثُ تَكَلَّمَ بِهِ أَنَّهُ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ”إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ“ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) سعید مقبری سے روایت ہے کہ جب عمرو بن سعید مکہ کی طرف لشکر روانہ کر رہا تھا تو ابو شریح العدوی نے اس سے کہا: اے امیر! مجھے اجازت دیجئے کہ میں تمہیں وہ باتیں بیان کروں جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ سے اگلے دن اپنے خطبہ میں ارشاد فرمائی تھیں، جن کو میرے کانوں نے سنا اور میرے دل نے یاد رکھا، جب آپ نے یہ باتیں ارشاد فرمائیں تو میری آنکھیں آپ کو دیکھ رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنے کے بعد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو حرمت والا قرار دیا ہے، … ۔ پھر سابقہ روایت کی طرح کی روایت ذکر کی۔

وضاحت:
فوائد: … یزید بن معاویہ کی طرف سے مقرر کردہ والی ٔ مدینہ عمرو بن سعید بن عاص تھا، یہ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے لڑنے کے لیے مکہ مکرمہ کہ طرف لشکر بھیج رہا تھا، اس دوران سیدنا ابو شریح عدوی رضی اللہ عنہ نے اپنی ذمہ داری ادا کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث بیان کی، جس کی روشنی میں عمرو بن سعید کی کاروائی صحیح نہیں تھی۔
حدیث کے آخر میں عمرو بن سعید، سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ وہ نافرمان ہے، وغیرہ وغیرہ، لیکن عمرو بن سعید کا یہ نظریہ درست نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12434
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16487»