الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
فَضْلُ فِي نَصِيحَةِ أَبِي شُرَيحِ الصَّحَابِيِّرَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ الْأَمَوِي الْوَالِي عَلَى الْمَدِينَةِ مِنْ قِبَلِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ حِينَمَا بَعَثَ بَعْثًا إلى مَكَّةَ لِمُحَارِبَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ بِهَا، وَعَدْمٍ قُبُولِهِ النَّصِيحَةَ باب: فصل: یزید بن معاویہ کی طر ف سے مدینہ کے حکمران عمرو بن سعید بن العاص اموی کا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے مقابلہ کے لیے مکہ کی طرف لشکر بھیجنا اور ابو شریح رضی اللہ عنہ صحابی کی اس کو نصیحت اور سعید کے انکار کا بیان
وَمِنْ طَرِيقٍ آخَرَ عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الْأَمِيرُ أُحَدِّثْكَ قَوْلًا قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْغَدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حَيْثُ تَكَلَّمَ بِهِ أَنَّهُ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ”إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ“ فَذَكَرَ نَحْوَهُ۔ (دوسری سند) سعید مقبری سے روایت ہے کہ جب عمرو بن سعید مکہ کی طرف لشکر روانہ کر رہا تھا تو ابو شریح العدوی نے اس سے کہا: اے امیر! مجھے اجازت دیجئے کہ میں تمہیں وہ باتیں بیان کروں جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ سے اگلے دن اپنے خطبہ میں ارشاد فرمائی تھیں، جن کو میرے کانوں نے سنا اور میرے دل نے یاد رکھا، جب آپ نے یہ باتیں ارشاد فرمائیں تو میری آنکھیں آپ کو دیکھ رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنے کے بعد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو حرمت والا قرار دیا ہے، … ۔ پھر سابقہ روایت کی طرح کی روایت ذکر کی۔
حدیث کے آخر میں عمرو بن سعید، سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ وہ نافرمان ہے، وغیرہ وغیرہ، لیکن عمرو بن سعید کا یہ نظریہ درست نہیں ہے۔