حدیث نمبر: 12429
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَمِيرًا مِنْ أُمَرَاءِ الْفِتْنَةِ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَكَانَ قَدْ ذَهَبَ بَصَرُ جَابِرٍ فَقِيلَ لِجَابِرٍ لَوْ تَنَحَّيْتَ عَنْهُ فَخَرَجَ يَمْشِي بَيْنَ ابْنَيْهِ فَنُكِّبَ فَقَالَ تَعِسَ مَنْ أَخَافَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ابْنَاهُ أَوْ أَحَدُهُمَا يَا أَبَتِ وَكَيْفَ أَخَافَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ مَاتَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ أَخَافَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَقَدْ أَخَافَ مَا بَيْنَ جَنْبَيَّ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

زید بن اسلم سے مروی ہے کہ فتنے والے امراء میں ایک امیر مدینہ منورہ آیا، ان دنوں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بینائی سے محروم ہو چکے تھے، کسی نے ان سے کہا: اگر آپ اس سے دور ہو جائیں (تو بہتر ہے)، پس وہ اپنے دو بیٹوں کے درمیان چلتے ہوئے ایک طرف نکل گئے اور کہا: وہ آدمی تباہ و برباد ہو، جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈرایا اور خوف زدہ کیا، ان کے دونوں بیٹوں نے یا ان میں سے کسی ایک نے کہا: اباجان! اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تو انتقال ہو چکا ہے، اس نے آپ کو کیسے خوف زدہ کیا تھا؟ انہوں نے کہا: میں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اہل مدینہ کو خوف زدہ کیا، اس نے میرے دل کو خوف زدہ کیا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12429
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، اخرجه البخاري في التاريخ الكبير : 1/ 53، وابن ابي شيبة: 12/ 180، وابن حبان: 3738 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14818 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14878»