الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْبَابُ الثَّالِثُ فِي وَقْعَةِ الْحَرَّةِ وَهِيَ مِنْ أَفْطَعِ الْحَوَادِثِ أَيْضًا فِي مُدَّةِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ باب: سوم: یزید بن معاویہ کے عہد میں وقوع پذیر ہونے والے ایک انتہائی المناک واقعہ حرہ کا بیان
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَمِيرًا مِنْ أُمَرَاءِ الْفِتْنَةِ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَكَانَ قَدْ ذَهَبَ بَصَرُ جَابِرٍ فَقِيلَ لِجَابِرٍ لَوْ تَنَحَّيْتَ عَنْهُ فَخَرَجَ يَمْشِي بَيْنَ ابْنَيْهِ فَنُكِّبَ فَقَالَ تَعِسَ مَنْ أَخَافَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ابْنَاهُ أَوْ أَحَدُهُمَا يَا أَبَتِ وَكَيْفَ أَخَافَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ مَاتَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”مَنْ أَخَافَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَقَدْ أَخَافَ مَا بَيْنَ جَنْبَيَّ“زید بن اسلم سے مروی ہے کہ فتنے والے امراء میں ایک امیر مدینہ منورہ آیا، ان دنوں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بینائی سے محروم ہو چکے تھے، کسی نے ان سے کہا: اگر آپ اس سے دور ہو جائیں (تو بہتر ہے)، پس وہ اپنے دو بیٹوں کے درمیان چلتے ہوئے ایک طرف نکل گئے اور کہا: وہ آدمی تباہ و برباد ہو، جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈرایا اور خوف زدہ کیا، ان کے دونوں بیٹوں نے یا ان میں سے کسی ایک نے کہا: اباجان! اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تو انتقال ہو چکا ہے، اس نے آپ کو کیسے خوف زدہ کیا تھا؟ انہوں نے کہا: میں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اہل مدینہ کو خوف زدہ کیا، اس نے میرے دل کو خوف زدہ کیا۔