الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْفَصْلُ الْخَامِسُ فِيمَا جَاءَ فِي مَنَاقِبِ الْحُسَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ غَيْرِ مَا تَقَدَّمَ باب: فصل پنجم: سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے مزید مناقب کا بیان
عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ عَنْ يَعْلَى الْعَامِرِيِّ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى طَعَامٍ دُعُوا لَهُ قَالَ فَاسْتَمْثَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَفَّانُ قَالَ وَهَيْبٌ فَاسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَامَ الْقَوْمِ وَحُسَيْنٌ مَعَ غِلْمَانٍ يَلْعَبُ فَأَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْخُذَهُ قَالَ فَطَفِقَ الصَّبِيُّ هَاهُنَا مَرَّةً وَهَاهُنَا مَرَّةً فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُضَاحِكُهُ حَتَّى أَخَذَهُ قَالَ فَوَضَعَ إِحْدَى يَدَيْهِ تَحْتَ قَفَاهُ وَالْأُخْرَى تَحْتَ ذَقْنِهِ فَوَضَعَ فَاهُ عَلَى فِيهِ فَقَبَّلَهُ وَقَالَ ”حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا حُسَيْنٌ سِبْطٌ مِنَ الْأَسْبَاطِ“سیدنا یعلی عامری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھانے کے لیے بلایا گیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے آگے آگے چل رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو پکڑنے کا ارادہ کیا تو وہ کبھی اِدھر اور کبھی اُدھر بھاگ جاتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ان کو ہنساتے رہے، بالآخر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو پکڑ لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ایک ہاتھ ان کی گدی کے نیچے اور دوسرا ہاتھ ان کی تھوڑی کے نیچے رکھ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا منہ ان کے منہ پر رکھ کر اسے بوسہ دیا اور فرمایا: حسین مجھ سے اور میں حسین سے ہوں، جو حسین سے محبت رکھے، اللہ اس سے محبت رکھے، حسین (خیر و بھلائی والی) امتوں میں سے ایک امت ہے۔