حدیث نمبر: 12426
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا دَاوُدُ بْنُ عُمَرَ ثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ بْنِ جَمِيلٍ الْجُمَحِيِّ قَالَ رَأَيْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ وَعِكْرِمَةَ بْنَ خَالِدٍ يَرْمُونَ الْجَمْرَةَ قَبْلَ الْفَجْرِ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ لَهُ أَبِي يَا أَبَا سُلَيْمَانَ أَيَّ سَنَةٍ سَمِعْتَ مِنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ قَالَ سَنَةَ تِسْعٍ وَسِتِّينَ وَمِائَةٍ سَنَةَ وَقْعَةِ الْحُسَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

نافع بن عمر جمحی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے عطاء بن ابی ملیکہ اور عکرمہ بن خالد کو دیکھا، انھوں نے نحر والے دن یعنی دس ذوالحجہ کو قبل از فجر رمی یعنی جمرے کو کنکریاں ماریں،میرے والد نے ان سے کہا: اے ابو سلیمان! آپ نے نافع بن عمر سے یہ حدیث کس سال سنی؟ انھوں نے کہا: حسین کی شہادت والے سال ۱۶۹ ہجری میں۔

وضاحت:
فوائد: … لیکن یہ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ نہیں ہیں، بلکہ حسین بن علی بن حسن بن سیدنا حسن بن سیدنا علی بن ابو طالب ہیں، یہ نیکی و تقوی، جو دو سخاوت اور ہمت و شجاعت والے آدمی تھے، یہ آٹھ ذوالحجہ ۱۶۹ہجری کو مکہ مکرمہ کے قریب فج وادی میں شہید کر دیئے گئے تھے۔
معلوم ہوا کہ اس روایت کا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ یوم عاشورا یعنی ۱۰ محرم ۶۱ سن ہجری کو عراق کی سرزمین میں کربلا کے مقام پر شہید ہوئے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12426
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20281 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20547»