حدیث نمبر: 12425
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي نُعَيْمٍ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ شَيْءٍ قَالَ شُعْبَةُ وَأَحْسِبُهُ سَأَلَهُ عَنِ الْمُحْرِمِ يَقْتُلُ الذُّبَابَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَهْلُ الْعِرَاقِ يَسْأَلُونَ عَنِ الذُّبَابِ وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”هُمَا رَيْحَانَتَيَّ مِنَ الدُّنْيَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

شعبہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ کسی (عراقی آدمی) نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا کہ اگر کوئی آدمی احرام کی حالت میں مکھی مارڈالے تو اس کا کیا کفارہ ہے؟ انھوں نے کہا: اہل عراق مکھی مارنے کے متعلق دریافت کرتے ہیں، حالانکہ ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے کو قتل کر ڈالا ہے، جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ یہ دونوں یعنی حسن و حسین دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … ممکن ہے، بلکہ ایسے ہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ آدمی سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کے جرم سے بری ہو گا، لیکن بعض اوقات کسی مجرم کے بڑے پن کو واضح کرنے کے لیے جرم کو پوری قوم کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12425
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3753، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5568 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5568»