الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْفَضْلُ الثَّالِثُ فِي رُؤْيَا ابْنِ عَبَّاسِ وَ يَوْمَ قَتْلِ الْحُسَيْنِ باب: فصل سوم: سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا خواب
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ بِنِصْفِ النَّهَارِ وَهُوَ قَائِمٌ أَشْعَثُ أَغْبَرُ بِيَدِهِ قَارُورَةٌ فِيهَا دَمٌ فَقُلْتُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذَا قَالَ ”هَذَا دَمُ الْحُسَيْنِ وَأَصْحَابِهِ“ لَمْ أَزَلْ أَلْتَقِطُهُ مُنْذُ الْيَوْمِ فَأَحْصَيْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ فَوَجَدُوهُ قُتِلَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِسیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے دوپہر کے وقت خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر کے بال بکھرے ہوئے اور غبار آلود ہیں اور آپ کے ہاتھ میں ایک شیشی ہے جس میں خون تھا۔میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ حسین اور اس کے ساتھیوں کا خون ہے، جسے میں آج جمع کر رہا ہوں۔ ہم نے اس دن کا حساب لگایا تو وہ وہی دن تھا، جس دن سیدنا حسین رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تھے۔