الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْفَضْلُ الاَوَّلُ فِي الْأَخْبَارِ الْوَارِدَةِ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ فِي مَقْتَلِ الْحُسَيْنِ وَمَنْ قَتَلَهَ قَبْلَ حُصُولِهِ وحُزْنِهِ ﷺ باب: دوم: یزید کے دور خلافت و امارت میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمۂ زہرا رضی اللہ عنہا کے فرزند سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت سب سے الم ناک اور افسوس ناک واقعہ ہے¤فصل اول: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت اور ان کے مقتل کے بارے میں مروی احادیث اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غم کا بیان
حدیث نمبر: 12421
عَنْ عَائِشَةَ أَوْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ وَكِيعٌ شَكَّ هُوَ يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَعِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِإِحْدَاهُمَا ”لَقَدْ دَخَلَ عَلَيَّ الْبَيْتَ مَلَكٌ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيَّ قَبْلَهَا فَقَالَ لِي إِنَّ ابْنَكَ هَذَا حُسَيْنٌ مَقْتُولٌ وَإِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ مِنْ تُرْبَةِ الْأَرْضِ الَّتِي يُقْتَلُ بِهَا قَالَ فَأَخْرَجَ تُرْبَةً حَمْرَاءَ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا یا سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: میرے پاس گھر میں ایک فرشتہ آیا ہے، جو اس سے پہلے کبھی میرے پاس نہیں آیا تھا، اس نے بتلایاہے کہ آپ کا یہ بیٹا حسین قتل ہوگا، اگر آپ چاہیں تو آپ کو اس سرزمین کی مٹی دکھاؤں، جہاں یہ قتل ہوگا، پھر اس نے سرخ مٹی دکھائی۔