الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْفَضْلُ الاَوَّلُ فِي الْأَخْبَارِ الْوَارِدَةِ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ فِي مَقْتَلِ الْحُسَيْنِ وَمَنْ قَتَلَهَ قَبْلَ حُصُولِهِ وحُزْنِهِ ﷺ باب: دوم: یزید کے دور خلافت و امارت میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمۂ زہرا رضی اللہ عنہا کے فرزند سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت سب سے الم ناک اور افسوس ناک واقعہ ہے¤فصل اول: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت اور ان کے مقتل کے بارے میں مروی احادیث اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غم کا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ مَلَكَ الْمَطَرِ اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ أَنْ يَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنَ لَهُ فَقَالَ لِأُمِّ سَلَمَةَ امْلِكِي عَلَيْنَا الْبَابَ لَا يَدْخُلْ عَلَيْنَا أَحَدٌ قَالَ وَجَاءَ الْحُسَيْنُ لِيَدْخُلَ فَمَنَعَتْهُ فَوَثَبَ فَدَخَلَ فَجَعَلَ يَقْعُدُ عَلَى ظَهْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى مَنْكِبِهِ وَعَلَى عَاتِقِهِ قَالَ فَقَالَ الْمَلَكُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتُحِبُّهُ قَالَ ”نَعَمْ“ قَالَ أَمَا إِنَّ أُمَّتَكَ سَتَقْتُلُهُ وَإِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ الْمَكَانَ الَّذِي يُقْتَلُ فِيهِ فَضَرَبَ بِيَدِهِ فَجَاءَ بِطِينَةٍ حَمْرَاءَ فَأَخَذَتْهَا أُمُّ سَلَمَةَ فَصَرَّتْهَا فِي خِمَارِهَا قَالَ قَالَ ثَابِتٌ بَلَغَنَا أَنَّهَا كَرْبَلَاءُسیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بارش والے فرشتے نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہو نے کے لیے اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کی، اللہ نے اسے اجازت دے دی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: تم دروازے کے قریب رہنا اور کسی کو ہمارے پاس نہ آنے دینا۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آئے، وہ اندر آنے لگے، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ان کوروکا، مگر وہ چھلانک لگا کر اندر چلے گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت مبارک اور کندھے پر بیٹھنے لگے، اس فرشتے نے کہا: کیاآپ کو اس سے محبت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں اس فرشتے نے کہا: اس کو تو آپ کی امت قتل کر دے گی۔ آپ چاہیں تو میں آپ کو ان کی قتل گاہ دیکھا سکتا ہوں، اس نے اپنا ہاتھ مارا اور سرخ مٹی لے آیا، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے وہ مٹی لے کر اپنے دوپٹے میں ڈال لی، ثابت کہتے ہیں: ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ ان کی قتل گاہ کربلا کی زمین ہے۔