حدیث نمبر: 12420
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ مَلَكَ الْمَطَرِ اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ أَنْ يَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَذِنَ لَهُ فَقَالَ لِأُمِّ سَلَمَةَ امْلِكِي عَلَيْنَا الْبَابَ لَا يَدْخُلْ عَلَيْنَا أَحَدٌ قَالَ وَجَاءَ الْحُسَيْنُ لِيَدْخُلَ فَمَنَعَتْهُ فَوَثَبَ فَدَخَلَ فَجَعَلَ يَقْعُدُ عَلَى ظَهْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى مَنْكِبِهِ وَعَلَى عَاتِقِهِ قَالَ فَقَالَ الْمَلَكُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتُحِبُّهُ قَالَ ”نَعَمْ“ قَالَ أَمَا إِنَّ أُمَّتَكَ سَتَقْتُلُهُ وَإِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ الْمَكَانَ الَّذِي يُقْتَلُ فِيهِ فَضَرَبَ بِيَدِهِ فَجَاءَ بِطِينَةٍ حَمْرَاءَ فَأَخَذَتْهَا أُمُّ سَلَمَةَ فَصَرَّتْهَا فِي خِمَارِهَا قَالَ قَالَ ثَابِتٌ بَلَغَنَا أَنَّهَا كَرْبَلَاءُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بارش والے فرشتے نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہو نے کے لیے اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کی، اللہ نے اسے اجازت دے دی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: تم دروازے کے قریب رہنا اور کسی کو ہمارے پاس نہ آنے دینا۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آئے، وہ اندر آنے لگے، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ان کوروکا، مگر وہ چھلانک لگا کر اندر چلے گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت مبارک اور کندھے پر بیٹھنے لگے، اس فرشتے نے کہا: کیاآپ کو اس سے محبت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں اس فرشتے نے کہا: اس کو تو آپ کی امت قتل کر دے گی۔ آپ چاہیں تو میں آپ کو ان کی قتل گاہ دیکھا سکتا ہوں، اس نے اپنا ہاتھ مارا اور سرخ مٹی لے آیا، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے وہ مٹی لے کر اپنے دوپٹے میں ڈال لی، ثابت کہتے ہیں: ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ ان کی قتل گاہ کربلا کی زمین ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12420
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، تفرد به عمارة بن زاذان عن ثابت، وقد قال الامام احمد: يروي عن ثابت عن انس احاديث مناكير، اخرجه البزار: 2642، وابويعلي: 3402، وابن حبان: 6742، والطبراني في الكبير : 2813 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13539 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13573»