حدیث نمبر: 1242
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔

عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ بِالشَّامِ يُقَالُ لَهُ مَعْدَانُ، كَانَ أَبُو الدَّرْدَاءِ يُقْرِئُهُ الْقُرْآنَ فَفَقَدَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ فَلَقِيَهُ يَوْمًا وَهُوَ بِدَمَقْسِ قَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ: يَا مَعْدَانُ! مَا فَعَلَ الْقُرْآنُ الَّذِي كَانَ مَعَكَ؟ كَيْفَ أَنْتَ وَالْقُرْآنُ الْيَوْمَ؟ قَالَ: قَدْ عَلَّمَنِي اللَّهُ مِنْهُ فَأَحْسَنَ، قَالَ: يَا مَعْدَانُ! أَفِي مَدِينَةٍ تَسْكُنُ الْيَوْمَ أَوْ فِي قَرْيَةٍ؟ قَالَ: لَا، بَلْ فِي قَرْيَةٍ قَرِيبَةٍ مِنَ الْمَدِينَةِ (وَفِي رِوَايَةٍ: فِي قَرْيَةٍ قَرِيبَةٍ دُونَ حِمْصَ) قَالَ: مَهْلًا وَيْحَكَ يَا مَعْدَانُ! فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَا مِنْ خَمْسَةٍ أَهْلِ أَبْيَاتٍ لَا يُؤَذَّنُ فِيهِمْ بِالصَّلَاةِ وَتُقَامُ فِيهِمُ الصَّلَاةُ إِلَّا اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ، وَإِنَّ الذِّئْبَ يَأْخُذُ الشَّاذَّةَ)) فَعَلَيْكَ بِالْمَدَائِنِ وَيْحَكَ يَا مَعْدَانُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

عبادہ بن نسی کہتے ہیں: شام میں ایک معدان نامی آدمی تھا، سیّدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ اسے قرآن پڑھایا کرتے تھے۔ سیّدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے اُسے گم پایا۔ پھر ایک دن جب دابق مقام پر اسے ملے تو کہنے لگے: معدان! وہ قرآن جو تیرے پاس تھا، اس کا کیا بنا؟ آج کل تیرا اور قرآن کا کیا حال ہے؟ اس نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ نے وہ سکھایا اور اچھا سکھایا۔سیّدنا ابو درداء نے پوچھا: معدان! آج کل شہر میں رہتے ہو یا کسی دیہات میں؟ معدان نے جواب دیا: نہیں، میں ایک دیہات میں سکونت پذیر ہوں، وہ شہر کے قریب ہے۔ اور ایک روایت میں ہے: ایسے دیہات میں ہوں جو حمص شہر کے قریب ہے۔ سیّدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے کہا: چھوڑ، تجھ پر افسوس ہے معدان! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جہاں پانچ گھر واقع ہوں اور ان میں نہ اذان دی جاتی ہو نہ نماز قائم کی جاتی ہو، ان پر شیطان کا غلبہ ہو جاتا ہے اور (تجھے ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ) بھیڑیا علیحدہ رہنے والی بکری کو ہڑپ کر جاتا ہے۔ اس لیے تجھ پر شہروں میں رہنا لازم ہے۔اے معدان! تجھ پر افسوس ہے!

(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَا مِنْ ثَلَاثَةٍ فِي قَرْيَةٍ فَلَا يُؤَذَّنُ وَلَا تُقَامُ فِيهِمُ الصَّلَاةُ إِلَّا اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ، عَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَةَ)) قَالَ ابْنُ مَهْدِيٍّ: قَالَ السَّائِبُ: يَعْنِي الْجَمَاعَةَ فِي الصَّلَاةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

یہ روایت دوسری سند کے ساتھ اس طرح مروی ہے: وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : جس بستی میں تین شخص رہتے ہوں اور ان میں نہ اذان دی جاتی ہو نہ نماز قائم کی جاتی ہو، ان پر شیطان کا غلبہ ہو جاتا ہے، اس لیے تجھ پر جماعت لازم ہے، کیونکہ بھیڑیا صرف دور رہنے والی بکری کو ہی کھاتا ہے۔ ابن مہدی نے کہا کہ سائب کا خیال ہے کہ تجھ پر جماعت لازم ہے سے نماز باجماعت مراد ہے۔

وضاحت:
فوائد: … جو بکری جنگل میں ریوڑ اور مالک سے الگ ہو جاتی ہے، بھیڑیا اور دوسرے درندے اس کا کیا حشر کرتے ہیں، ہر ایک پر واضح ہے۔ اسی طرح جو بندہ نماز باجماعت سے دور رہتا ہے، وہ شیطان کے وسوسوں میں پھنس کر خیر و بھلائی کے کاموں سے دور ہوجاتا ہے، لیکن ہمارے ہاں مصیبتیہ ہے کہ روحانی طہارت کے فقدان کی وجہ سے وہ یہ سمجھ نہیں پاتا کہ اس کا کتنا نقصان ہو رہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1242
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، وھذا اسناد ضعيف لجھالة حاتم بن ابي نصر۔ أخرجه ابوداود: 547، والنسائي: 2/ 106، وابن خزيمة: 1486، وابن حبان: 2101، والحاكم: 1/ 211، 246 و 2/ 482 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21710 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28063»