الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
البابُ الأَوَّلُ فِي بَيْعَةِ الْيَزِيْدِ وَخَلْعِ بَعْضِ النَّاسِ هذا البَيْعَةَ وَمَا قَالَهُ ابْنُ عُمَرُ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ باب: یزید بن معاویہ کی خلافت اور ان کے عہد خلافت میں ہونے والے واقعات سے متعلقہ ابواب¤باب اول: یزید کی بیعت اور بعض لوگوںکی اس کی بیعت سے بے زاری اور سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ لَمَّا خَلَعَ النَّاسُ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ جَمَعَ ابْنُ عُمَرَ بَنِيهِ وَأَهْلَهُ ثُمَّ تَشَهَّدَ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّا قَدْ بَايَعْنَا هَذَا الرَّجُلَ عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّ الْغَادِرَ يُنْصَبُ لَهُ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُقَالُ هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ“ وَإِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الْغَدْرِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ تَعَالَى أَنْ يُبَايِعَ رَجُلٌ رَجُلًا عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يَنْكُثَ بَيْعَتَهُ فَلَا يَخْلَعَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ يَزِيدَ وَلَا يُشْرِفَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ فِي هَذَا الْأَمْرِ فَيَكُونَ صَيْلَمٌ بَيْنِي وَبَيْنَهُنافع سے مروی ہے کہ جب بعض لوگ یزید کی بیعت سے دستبردار ہو گئے تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے صاحب زادوں اور اہل خانہ کو بلا کر توحید و رسالت کی گواہی دی اور پھر کہا: ہم نے اللہ اوراس کے رسول کی خاطر اس یزید کی بیعت کی ہے اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سن چکا ہوں کہ : بے وفا دھوکہ باز کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا او رکہاجائے گا کہ یہ فلاں کے دھوکہ کی علامت ہے۔ سب سے بڑا دھوکہ اور بے وفائی اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہی نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ کوئی آدمی اللہ اور اس کے رسول کی خاطر کسی آدمی کی بیعت کرے اور پھر اس کو توڑڈالے، تم میں سے کوئی بھی یزید کا ساتھ نہ چھوڑے اور خلافت و امارت کے سلسلہ میں کسی بھی دوسری طرف نہ جھانکے، ورنہ اور اس کے میرے درمیان تلوار ہو گی (یعنی میں اس کے ساتھ سخت معاملہ کروں گا)۔