حدیث نمبر: 12414
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ مُعَاوِيَةَ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ لَهُ أَمَا خِفْتَ أَنْ أُقْعِدَ لَكَ رَجُلًا فَيَقْتُلَكَ فَقَالَ مَا كُنْتِ لِتَفْعَلِيهِ وَأَنَا فِي بَيْتِ أَمَانٍ وَقَدْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَعْنِي ”الْإِيمَانُ قَيْدُ الْفَتْكِ“ كَيْفَ أَنَا فِي الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَكِ وَفِي حَوَائِجِكِ قَالَتْ صَالِحٌ قَالَ فَدَعِينَا وَإِيَّاهُمْ حَتَّى نَلْقَى رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لائے،سیدہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ میں کسی آدمی کوتمہاری تاک میں بٹھادوں جو تمہیں قتل کر دے؟ انھوں نے کہا: آپ ایسا کام نہیں کریں گی، کیونکہ میں حفظ وامان کے مرکز میں ہوں اور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سن چکا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ایمان بے خبری میں کسی کو قتل کرنے سے روکتا ہے۔ میراآپ کے ساتھ اور آپ کی ضروریات کے بارے میں رویہ کیسا ہے؟ سیدہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جی ٹھیک ہے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تو پھر آپ میرے اور ان لوگوں کے معاملات کو رہنے دیں تاآنکہ ہم اللہ تعالیٰ سے جاملیں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12414
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، اخرجه الطبراني في الكبير : 19/ 723 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16832 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16957»