الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْبَابُ الثَّالِثُ فِيمَا اشْتَرَكَ فِيهِ الحَسَنُ وَالْحُسَین رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْا مِنَ الْمَنَاقِبِ باب: سوم: ان مناقب کا بیان، جن میں سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما مشترک ہیں
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ فَإِذَا سَجَدَ وَثَبَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَى ظَهْرِهِ فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ أَخَذَهُمَا بِيَدِهِ مِنْ خَلْفِهِ أَخْذًا رَفِيقًا وَيَضَعُهُمَا عَلَى الْأَرْضِ فَإِذَا عَادَ عَادَا حَتَّى إِذَا قَضَى صَلَاتَهُ أَقْعَدَهُمَا عَلَى فَخِذَيْهِ قَالَ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرُدُّهُمَا فَبَرَقَتْ بَرْقَةٌ فَقَالَ لَهُمَا ”الْحَقَا بِأُمِّكُمَا“ قَالَ فَمَكَثَ ضَوْءُهَا حَتَّى دَخَلَا عَلَى أُمِّهِمَاسیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ عشاء کی نماز ادا کررہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدہ میں جاتے تو سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما آپ کی پشت پر سوار ہو جاتے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سر اٹھانے کا ارادہ کرتے تو آپ اپنا ہاتھ پیچھے کر کے نرمی سے انہیں پکڑ کر زمین پر بٹھا دیتے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسرے سجدہ میں جاتے تو وہ پھر ویسے ہی کرتے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پوری کر لی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کو اپنی رانوں پر بٹھا لیا ، میں (ابوہریرہ) آپ کی طرف اٹھ کر گیا اور کہا : اللہ کے رسول ! میں انہیں گھر پہنچا آؤں ، اتنے میں ایک چمک سی ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا : تم دونوں اپنی والدہ کے پاس چلے جاؤ ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ان دونوں کے گھر داخل ہونے تک وہ چمک موجود رہی ، ایک روایت میں ہے : ان دونوں کے اپنی والدہ کے ہاں جانے تک وہ چمک باقی رہی ۔