حدیث نمبر: 12402
عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَخْبَرَنِي عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ بَعْدَ وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِلَيَالٍ وَعَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَمْشِي إِلَى جَنْبِهِ فَمَرَّ بِحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ يَلْعَبُ مَعَ غِلْمَانٍ فَاحْتَمَلَهُ عَلَى رَقَبَتِهِ وَهُوَ يَقُولُ وَأَبِي شَبَهُ النَّبِيِّ لَيْسَ شَبِيهًا بِعَلِيٍّ قَالَ وَعَلِيٌّ يَضْحَكُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

عقبہ بن حارث سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے چند راتوں بعد میں ایک دن عصر کی نماز کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ نکلا، ان کے پہلو میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی چلے آر ہے تھے، اتنے میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہا کے پاس سے گزرے، وہ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنی گردن پر سوار کر لیا اور کہا: واہ! میرا باپ قربان ہو، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشابہ ہے، یہ اپنے والد علی رضی اللہ عنہ سے مشابہت نہیں رکھتا۔ یہ بات سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ مسکرا دئیے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12402
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط البخاري، اخرجه البزار: 53، وابويعلي: 38، والطبراني في الكبير : 2528، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 40 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 40»