الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
فَضْلُ فِي أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْ كَانَ يُشْبِهُ رَسُولَ اللهِ ﷺ باب: فصل دوم: اس امر کابیان ہے کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشابہت رکھتے تھے
عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَخْبَرَنِي عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ بَعْدَ وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِلَيَالٍ وَعَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَمْشِي إِلَى جَنْبِهِ فَمَرَّ بِحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ يَلْعَبُ مَعَ غِلْمَانٍ فَاحْتَمَلَهُ عَلَى رَقَبَتِهِ وَهُوَ يَقُولُ وَأَبِي شَبَهُ النَّبِيِّ لَيْسَ شَبِيهًا بِعَلِيٍّ قَالَ وَعَلِيٌّ يَضْحَكُعقبہ بن حارث سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے چند راتوں بعد میں ایک دن عصر کی نماز کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ نکلا، ان کے پہلو میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی چلے آر ہے تھے، اتنے میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہا کے پاس سے گزرے، وہ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنی گردن پر سوار کر لیا اور کہا: واہ! میرا باپ قربان ہو، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشابہ ہے، یہ اپنے والد علی رضی اللہ عنہ سے مشابہت نہیں رکھتا۔ یہ بات سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ مسکرا دئیے۔