الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْفَضْلُ الأَوَّلُ فِي مَحَبَّةِ النَّبِيِّ ﷺ إِيَّاهُ وَحُبِّهِ مَنْ اَحَبَّهُ باب: دوم: اہل بیت کے متعلق پہلے ذکر کردہ فضائل کے علاوہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ¤کے مزید مناقب کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں¤فصل اول: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے اور ان سے محبت کرنے والے سے محبت کا بیان
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى سُوقِ بَنِي قَيْنُقَاعَ مُتَّكِئًا عَلَى يَدِي فَطَافَ فِيهَا ثُمَّ رَجَعَ فَاحْتَبَى فِي الْمَسْجِدِ وَقَالَ ”أَيْنَ لُكَاعٌ ادْعُوا لِي لُكَاعًا“ فَجَاءَ الْحَسَنُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَاشْتَدَّ حَتَّى وَثَبَ فِي حَبْوَتِهِ فَأَدْخَلَ فَمَهُ فِي فَمِهِ ثُمَّ قَالَ ”اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ“ ثَلَاثًا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا رَأَيْتُ الْحَسَنَ إِلَّا فَاضَتْ عَيْنِي أَوْ دَمَعَتْ عَيْنِي أَوْ بَكَتْ شَكَّ الْخَيَّاطُ (الرَّاوِي)۔ (دوسری سند) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاتھ پر ٹیک لگائے ہوئے بنو قینقاع کے بازار کی طرف تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں چکر لگایا، اس کے بعد واپس آکر مسجد میں بیٹھ گئے اور فرمایا: چھوٹا کہاں ہے؟ چھوٹو کو میرے پاس بلا کر لاؤ۔ اتنے میں سیدنا حسن علیہ السلام آگئے اور دوڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گود میں بیٹھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا منہ اس کے منہ کے ساتھ لگایا اور تین بار فرمایا: یا اللہ! مجھے اس سے محبت ہے، تو بھی اس سے اور اس سے محبت کرنے والوں سے محبت فرما۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں جب بھی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو دیکھتا ہوں تو میری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔