حدیث نمبر: 12398
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى سُوقِ بَنِي قَيْنُقَاعَ مُتَّكِئًا عَلَى يَدِي فَطَافَ فِيهَا ثُمَّ رَجَعَ فَاحْتَبَى فِي الْمَسْجِدِ وَقَالَ ”أَيْنَ لُكَاعٌ ادْعُوا لِي لُكَاعًا“ فَجَاءَ الْحَسَنُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَاشْتَدَّ حَتَّى وَثَبَ فِي حَبْوَتِهِ فَأَدْخَلَ فَمَهُ فِي فَمِهِ ثُمَّ قَالَ ”اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ“ ثَلَاثًا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا رَأَيْتُ الْحَسَنَ إِلَّا فَاضَتْ عَيْنِي أَوْ دَمَعَتْ عَيْنِي أَوْ بَكَتْ شَكَّ الْخَيَّاطُ (الرَّاوِي)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاتھ پر ٹیک لگائے ہوئے بنو قینقاع کے بازار کی طرف تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں چکر لگایا، اس کے بعد واپس آکر مسجد میں بیٹھ گئے اور فرمایا: چھوٹا کہاں ہے؟ چھوٹو کو میرے پاس بلا کر لاؤ۔ اتنے میں سیدنا حسن علیہ السلام آگئے اور دوڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گود میں بیٹھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا منہ اس کے منہ کے ساتھ لگایا اور تین بار فرمایا: یا اللہ! مجھے اس سے محبت ہے، تو بھی اس سے اور اس سے محبت کرنے والوں سے محبت فرما۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں جب بھی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو دیکھتا ہوں تو میری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12398
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10904»