الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
فَضْلُ فِي عَدْمٍ اسْتِخْلافِهِ أَحَدًا بَعْدَهُ باب: فصل: اس امر کا بیان کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بعد کسی کو خلیفہ نامزد نہیں کیا
عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَبْعٍ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ لَتُخْضَبَنَّ هَذِهِ مِنْ هَذَا فَمَا يَنْتَظِرُ بِيَ الْأَشْقَى قَالُوا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَأَخْبِرْنَا بِهِ نُبِيرُ عِتْرَتَهُ قَالَ إِذًا تَاللَّهِ تَقْتُلُونَ بِي غَيْرَ قَاتِلِي قَالُوا فَاسْتَخْلِفْ عَلَيْنَا قَالَ لَا وَلَكِنْ أَتْرُكُكُمْ إِلَى مَا تَرَكَكُمْ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالُوا فَمَا تَقُولُ لِرَبِّكَ إِذَا أَتَيْتَهُ وَقَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً إِذَا لَقِيتَهُ قَالَ أَقُولُ اللَّهُمَّ تَرَكْتَنِي فِيهِمْ مَا بَدَا لَكَ ثُمَّ قَبَضْتَنِي إِلَيْكَ وَأَنْتَ فِيهِمْ فَإِنْ شِئْتَ أَصْلَحْتَهُمْ وَإِنْ شِئْتَ أَفْسَدْتَهُمْعبداللہ بن سبع سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: میری یہ داڑھی میرے سر کے خون سے رنگین ہوگی اور انتہائی بدبخت آدمی میرے ساتھ ایسا سلوک کرنے کا منتظر ہے۔ لوگوں نے کہا: اے امیر المومنین! آپ ہمیں اس کے متعلق بتلا دیں تو ہم اس کی اولاد تک کا نام و نشان نہ چھوڑیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں ایسا کروں تو تم میرے اصل قاتل کے علاوہ کسی دوسرے کو قتل کر دو گے۔ لوگوں نے کہا: اچھا آپ کسی کو ہمارے اوپر خلیفہ نامزد کردیں، انھوں نے اس سے بھی انکار کر دیا اور کہا: میں تمہیں اسی طرح چھوڑ کر جاؤں گا، جس طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہیں چھوڑگئے تھے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی کسی کو خلیفہ نامزد نہیں کیا تھا، لوگوں نے کہا: آپ اپنے رب کے ہاں جا کر کیا کہیں گے؟ انھوں نے کہا: میں کہوں گا: یاا للہ! جب تک تجھے منظور تھا تو نے مجھے ان کے درمیان باقی رکھا، پھر تو نے مجھے اپنی طرف بلالیا اور ان لوگوں میں میرے بعد تو ہی تھا، تو چاہتا ہے تو ان کی اصلاح کردے اور اگر چاہتا ہے تو ان میں فساد برپا کر دے۔