حدیث نمبر: 12386
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ كُنْتُ أَنَا وَعَلِيٌّ رَفِيقَيْنِ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ الْعُشَيْرَةِ فَلَمَّا نَزَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَقَامَ بِهَا رَأَيْنَا أُنَاسًا مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ يَعْمَلُونَ فِي عَيْنٍ لَهُمْ فِي نَخْلٍ فَقَالَ لِي عَلِيٌّ يَا أَبَا الْيَقْظَانِ هَلْ لَكَ أَنْ تَأْتِيَ هَؤُلَاءِ فَنَنْظُرَ كَيْفَ يَعْمَلُونَ فَجِئْنَاهُمْ فَنَظَرْنَا إِلَى عَمَلِهِمْ سَاعَةً ثُمَّ غَشِيَنَا النَّوْمُ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَعَلِيٌّ فَاضْطَجَعْنَا فِي صَوْرٍ مِنَ النَّخْلِ فِي دَقْعَاءَ مِنَ التُّرَابِ فَنِمْنَا فَوَاللَّهِ مَا أَهَبَّنَا إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّكُنَا بِرِجْلِهِ وَقَدْ تَتَرَّبْنَا مِنْ تِلْكَ الدَّقْعَاءِ فَيَوْمَئِذٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ ”يَا أَبَا تُرَابٍ“ لِمَا يَرَى عَلَيْهِ مِنَ التُّرَابِ قَالَ ”أَلَا أُحَدِّثُكُمَا بِأَشْقَى النَّاسِ رَجُلَيْنِ“ قُلْنَا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”أُحَيْمِرُ ثَمُودَ الَّذِي عَقَرَ النَّاقَةَ وَالَّذِي يَضْرِبُكَ يَا عَلِيُّ عَلَى هَذِهِ يَعْنِي قَرْنَهُ حَتَّى تُبَلَّ مِنْهُ هَذِهِ يَعْنِي لِحْيَتَهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ غزوۂ ذی العشیرہ میں رفیق تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں اترے اور قیام کیا تو ہم نے بنو مدلج قبیلے کے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ کھجوروں میں اپنے ایک چشمے میں کام کر رہے تھے۔ سیدنا علی نے مجھے کہا: ابو الیقظان! کیا خیال ہے کہ اگر ہم ان کے پاس چلے جائیں اور دیکھیں کہ یہ کیسے کام کرتے ہیں؟ سو ہم ان کے پاس چلے گئے اور کچھ دیر تک ان کا کام دیکھتے رہے، پھر ہم پر نیند غالب آ گئی۔ میں اور سیدنا علی کھجوروں کے ایک جھنڈ میں چلے گئے اور مٹی میں لیٹ کر سو گئے۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہی ہمیں اپنے پاؤں کے ساتھ حرکت دے کر جگایا اور ہم مٹی آلود ہو چکے تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی پر مٹی دیکھی تو فرمایا: اے ابو تراب! (یعنی مٹی والے) پھر آپ نے فرمایا: کیا میں تمھارے لیے دو بدبخت ترین مردوں کی نشاندہی نہ کروں؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: احیمر ثمودی، جس نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دی تھیں اور وہ آدمی جو (اے علی!) تیرے سر پر مارے گا، حتی کہ تیری (داڑھی) خون سے بھیگ جائے گی۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12386
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، اخرجه الحاكم: 3/ 140، والبزار: 1417، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18321 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18511»