الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
البابُ السَّابِعُ فِي قَتْلِ الْإِمَامِ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَمَكَان الأَصَابَةِ مِنْهُ وَقَدْ أَخْبَرَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِذلِكَ قَبْلَ حُصُولِهِ وَمَا فُعِلَ بِقَاتِلِهِ باب: ہفتم: سیدنا امام علی رضی اللہ عنہ کی شہادت اور اس امر کا بیان کہ ان کے جسم کا کون سا حصہ زخمی ہوگا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی یہ بات اس واقعہ کے وقوع پذیر ہو نے سے پہلے بتلا دی تھی اور اس امرکا بیان کہ اس کے قاتل کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ فَضَالَةِ بْنِ أَبِي فَضَالَةَ الْأَنْصَارِيِّ وَكَانَ أَبُو فَضَالَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ أَبِي عَائِدًا إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ مَرَضٍ أَصَابَهُ ثَقُلَ مِنْهُ قَالَ فَقَالَ لَهُ أَبِي مَا يُقِيمُكَ فِي مَنْزِلِكَ هَذَا لَوْ أَصَابَكَ أَجَلُكَ لَمْ يَلِكَ عِنْدَكَ إِلَّا أَعْرَابُ جُهَيْنَةَ تُحْمَلُ إِلَى الْمَدِينَةِ فَإِنْ أَصَابَكَ أَجَلُكَ وَلِيَكَ أَصْحَابُكَ وَصَلَّوْا عَلَيْكَ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ أَنْ لَا أَمُوتَ حَتَّى أُؤَمَّرَ ثُمَّ تُخْضَبَ هَذِهِ يَعْنِي لِحْيَتَهُ مِنْ دَمٍ هَذَا يَعْنِي هَامَّتَهُ فَقِّلَ وَقُتِلَ أَبُو فَضَالَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَ صِفِّينَفضالہ بن ابی فضالہ انصاری سے روایت ہے، ان کے والد سیدنا ابو فضالہ رضی اللہ عنہ بدری صحابی تھے، فضالہ کہتے ہیں: میں اپنے باپ کی معیت میں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے گیا، وہ کافی بیمار تھے، میرے والد نے ان سے کہا: آپ اپنی جگہ پر کس لیے ٹھہرے ہوئے ہیں؟ اگر آپ کا آخری وقت آگیا تو بنو جہینہ کے چند بدو آپ کے پاس ہوں گے،آپ کو مدینہ منورہ لے چلیں، وہاں اگر آپ کو موت آئی تو آپ کے دوست احباب پاس ہوں گے اور آپ کی نماز جنازہ ادا کریں گے، یہ سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے فرما چکے ہیں کہ مجھے اس وقت تک موت نہ آئے گی، جب تک کہ مجھے امارت نہ ملے، پھر میرے سر کے خون سے میری داڑھی رنگین نہ ہوجائے، چنانچہ ایسے ہی ہوا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ قتل ہو گئے۔ سیدنا ابو فضالہ رضی اللہ عنہ ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ صفین کی جنگ میں قتل ہو گئے تھے۔