الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
فَضْلُ فِي نَصْبِ رُؤُوسِ الْخَوَارِجِ عِنْدَ بَابِ مَسْجِدِ دِمَشْقَ باب: فصل: خوارج کے سروں کو مسجد دمشق کے دروازہ پر نصب کرنے کابیان
حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ قَالَ سَمِعْتُ صَفْوَانَ بْنَ سُلَيْمٍ يَقُولُ دَخَلَ أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ دِمَشْقَ فَرَأَى رُءُوسَ حَرُورَاءَ قَدْ نُصِبَتْ فَقَالَ كِلَابُ النَّارِ كِلَابُ النَّارِ ثَلَاثًا شَرُّ قَتْلَى تَحْتَ ظِلِّ السَّمَاءِ خَيْرُ قَتْلَى مَنْ قَتَلُوا ثُمَّ بَكَى فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَبَا أُمَامَةَ هَذَا الَّذِي تَقُولُ مِنْ رَأْيِكَ أَمْ سَمِعْتَهُ قَالَ إِنِّي إِذًا لَجَرِيءٌ كَيْفَ أَقُولُ هَذَا عَنْ رَأْيٍ قَالَ قَدْ سَمِعْتُهُ غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَا مَرَّتَيْنِ قَالَ فَمَا يُبْكِيكَ قَالَ أَبْكِي لِخُرُوجِهِمْ مِنَ الْإِسْلَامِ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاتَّخَذُوا دِينَهُمْ شِيَعًاصفوان بن سلیم سے مروی ہے کہ سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ دمشق میں داخل ہوئے اورانہوں نے حروری یعنی خارجی لوگوں کے سرلٹکے ہوئے دیکھے تو انھوں نے تین بار کہا: یہ لوگ جہنم کے کتے ہیں، یہ لوگ جہنم کے کتے ہیں، آسمان کی چھت کے نیچے قتل ہونے والوں میں سے یہ بد ترین مقتول ہیں اور اِنہوں نے جن لوگوں کو قتل کیا، وہ آسمان کی چھت کے نیچے قتل ہونے والوں میں سے بہترین مقتول ہیں۔ پھر وہ رونے لگے: ایک آدمی آپ کی طرف اٹھا اور اس نے کہا:اے ابوامامہ آپ ان کو دیکھ کرکیوں روئے؟ انہوں نے کہا:میں اس لیے رو رہا ہوں کہ یہ لوگ دائرہ اسلام سے نکل گئے، یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے تفرقہ ڈالا اور دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔