حدیث نمبر: 12382
وَعَنْهُ أَيْضًا مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ عَنْ أَبِي غَالِبٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّهُ رَأَى رُءُوسًا مَنْصُوبَةً عَلَى دَرَجِ مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ كِلَابُ النَّارِ كِلَابُ النَّارِ ثَلَاثًا شَرُّ قَتْلَى تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ خَيْرُ قَتْلَى مَنْ قَتَلُوا ثُمَّ قَرَأَ {يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ} [آل عمران: 106] الْآيَتَيْنِ قُلْتُ لِأَبِي أُمَامَةَ أَسَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ إِلَّا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سِتًّا أَوْ سَبْعًا مَا حَدَّثْتُكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے جامع مسجد دمشق کی سیڑھیوں پر نصب شدہ سر دیکھے تو تین مرتبہ کہا: یہ جہنم کے کتے ہیں، یہ جہنم کے کتے ہیں، آسمان کے چھت کے نیچے قتل ہونے والوں میں سے یہ بد ترین مقتول ہیں اور اِنھوں نے جن لوگوں کو قتل کیا وہ آسمان کی چھت کے نیچے قتل ہونے والوں میں سے بہترین مقتول ہیں، پھر انہوں نے یہ دو آیات تلاوت کیں : {یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوہٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوہٌ} … قیامت کے رو ز بہت سے چہرے روشن اور بہت سے چہرے سیاہ ہوں گے۔ (سورۂ آل عمران:۱۰۶) میں ابو غالب نے سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے کہا:آیا آپ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: اگر میں نے یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دو، تین، چار، پانچ، چھ یا سات مرتبہ بھی نہ سنی ہوتی تو تم سے بیان نہ کرتا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12382
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22561»