حدیث نمبر: 12377
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ قَالَ كُنَّا نُقَاتِلُ الْخَوَارِجَ وَفِينَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى وَقَدْ لَحِقَ لَهُ غُلَامٌ بِالْخَوَارِجِ وَهُمْ مِنْ ذَلِكَ الشَّطِّ وَنَحْنُ مِنْ ذَا الشَّطِّ فَنَادَيْنَاهُ أَبَا فَيْرُوزَ أَبَا فَيْرُوزَ وَيْحَكَ هَذَا مَوْلَاكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى قَالَ نِعْمَ الرَّجُلُ هُوَ لَوْ هَاجَرَ قَالَ مَا يَقُولُ عَدُوُّ اللَّهِ قَالَ قُلْنَا يَقُولُ نِعْمَ الرَّجُلُ لَوْ هَاجَرَ قَالَ فَقَالَ أَهِجْرَةٌ بَعْدَ هِجْرَتِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”طُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ وَقَتَلُوهُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سعید بن جمہان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم خوراج سے قتال کر رہے تھے، ہمارے ساتھ سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بھی تھے، ان کا ایک غلام جا کر خوارج کے ساتھ مل گیا، وہ ایک کنارے پر تھے اور ہم دوسری طرف، ہم نے اسے آواز دی، ابو فیروز! ابو فیروز، تمہارے آقا سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ یہاں ہیں، اس نے کہا: اگر ہجرت کر آئیں تو بہت ہی اچھے ہیں، سیدنا ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: وہ اللہ کا دشمن کیا کہہ رہا ہے؟ ہم نے کہا وہ کہہ رہا ہے کہ وہ اچھا آدمی ہے اگر وہ ہجرت کرے اس کی بات سن کر ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے کہا:کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہجرت کے بعد مزید ہجرت ہے؟ پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے کہ اس آدمی کے لیے خوشخبری ہے، جو ان کو قتل کرے یا جس کو یہ قتل کریں۔

وضاحت:
فوائد: … خوارج سے قتال کرنے والے لوگ اس وقت کے خیر و بھلائی والے لوگ ہوں گے، اس لیے ان کے لیے خوشخبری ہے، وہ قتل کریں یا قتل ہو جائیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12377
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، اخرجه ابن سعد: 4/ 301 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19149 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19362»