الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْفَصْلُ الثَّالِثُ فِي زَحْفِ الْإِمَامِ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَيْشَهُ إِلَى قِتَالِ الْخَوَارِجِ بِالنَّهْرَوَانِ بَعْدَ أَنْ تَبَيَّنَ لَهُ إِفْسَادُهُمْ باب: فصل سوم: جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر خوارج کا فساد واضح ہوا تو ان کا نہروان میں خوارج سے قتال کے لیے اپنے لشکر کو لے جانا
حدیث نمبر: 12375
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ أَنَّهُ قَالَ كُنَّا عَامِدِينَ إِلَى الْكُوفَةِ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرَ حَدِيثَ الْمُخْدَجِ قَالَ عَلِيٌّ فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ ثَلَاثًا فَقَالَ عَلِيٌّ أَمَا إِنَّ خَلِيلِي أَخْبَرَنِي ثَلَاثَةَ إِخْوَةٍ مِنَ الْجِنِّ هَذَا أَكْبَرُهُمْ وَالثَّانِي لَهُ جَمْعٌ كَثِيرٌ وَالثَّالِثُ فِيهِ ضَعْفٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) ابو وضیئی کہتے ہیں: ہم سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی معیت میں کوفہ کی طرف جا رہے تھے، پھر انہوں نے ناقص ہاتھ والے آدمی سے متعلقہ حدیث کا ذکر کیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے تین بار کہا: اللہ کی قسم! نہ تو میں نے جھوٹ کہا ہے اور نہ مجھے جھوٹی بات بیان کی گئی ہے، پھر کہا: میرے خلیل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بتلایاتھاکہ جنوں میں سے تین بھائی ہیں، یہ سب سے بڑا ہے، دوسرے کی بہت بڑی جمعیت ہے اور تیسرے میں ضعف اور کمزوری ہے۔