حدیث نمبر: 12373
عَنْ طَارِقِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ سَارَ عَلِيٌّ إِلَى النَّهْرَوَانِ فَقَتَلَ الْخَوَارِجَ فَقَالَ اطْلُبُوا فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”سَيَجِيءُ قَوْمٌ يَتَكَلَّمُونَ بِكَلِمَةِ الْحَقِّ لَا يُجَاوِزُ حُلُوقَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ سِيمَاهُمْ أَوْ فِيهِمْ رَجُلٌ أَسْوَدُ مُخْدَجُ الْيَدِ فِي يَدِهِ شَعَرَاتٌ سُودٌ“ إِنْ كَانَ فِيهِمْ فَقَدْ قَتَلْتُمْ شَرَّ النَّاسِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِمْ فَقَدْ قَتَلْتُمْ خَيْرَ النَّاسِ قَالَ ثُمَّ إِنَّا وَجَدْنَا الْمُخْدَجَ قَالَ فَخَرَرْنَا سُجُودًا وَخَرَّ عَلِيٌّ سَاجِدًا مَعَنَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

طارق بن زیاد سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی معیت میں خوارج کے مقابلہ کے لیے نکلے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کوقتل کیا اور پھر کہا: ذرادیکھو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ عنقریب ایک قوم نکلے گی کہ وہ بات تو حق کی کریں گے، لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی، وہ حق سے یوں نکل جائیں گے، جیسے تیر شکار میں سے گزر جاتا ہے، ان کی نشانی یہ ہے کہ ان میں ایک آدمی سیاہ فام، ناقص ہاتھ والا ہوگا، اس کے ہاتھ پر سیاہ بال ہوں گے۔ اب دیکھو کہ اگر کوئی مقتول ایسا ہو تو تم نے ایک بدترین لوگوں کو قتل کیا اور اگر کوئی مقتول ایسا نہ ہو تو تم نے نیک ترین لوگوں کو قتل کیا۔پھر ہم نے واقعی ناقص ہاتھ والے ایسے مقتول کو پا لیا، پھر ہم سب اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوگئے اور ہمارے ساتھ علی رضی اللہ عنہ بھی سجدہ میں گر گئے۔

وضاحت:
فوائد: … ظن غالب کی روشنی میں قتال کیا گیا تھا، لیکن جب ناقص ہاتھ والے مقتول کی علامت نظر آئی تو یقین ہو گیا کہ یہ وہی لوگ تھے، جن سے واقعی قتال ہونا چاہیے تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12373
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، اخرجه البزار: 897 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 848 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 848»