حدیث نمبر: 12372
عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ لَمَّا خَرَجَتِ الْخَوَارِجُ بِالنَّهْرَوَانِ قَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي أَصْحَابِهِ فَقَالَ إِنَّ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ قَدْ سَفَكُوا الدَّمَ الْحَرَامَ وَأَغَارُوا فِي سَرْحِ النَّاسِ وَهُمْ أَقْرَبُ الْعَدُوِّ إِلَيْكُمْ وَإِنْ تَسِيرُوا إِلَى عَدُوِّكُمْ أَنَا أَخَافُ أَنْ يَخْلُفَكُمْ هَؤُلَاءِ فِي أَعْقَابِكُمْ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”تَخْرُجُ خَارِجَةٌ مِنْ أُمَّتِي لَيْسَ صَلَاتُكُمْ إِلَى صَلَاتِهِمْ بِشَيْءٍ وَلَا صِيَامُكُمْ إِلَى صِيَامِهِمْ بِشَيْءٍ وَلَا قِرَاءَتُكُمْ إِلَى قِرَاءَتِهِمْ بِشَيْءٍ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ يَحْسِبُونَ أَنَّهُ لَهُمْ وَهُوَ عَلَيْهِمْ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّ فِيهِمْ رَجُلًا لَهُ عَضُدٌ وَلَيْسَ لَهَا ذِرَاعٌ عَلَيْهَا مِثْلُ حَلَمَةِ الثَّدْيِ عَلَيْهَا شَعَرَاتٌ بِيضٌ لَوْ يَعْلَمُ الْجَيْشُ الَّذِينَ يُصِيبُونَهُمْ مَا لَهُمْ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِمْ لَاتَّكَلُوا عَلَى الْعَمَلِ فَسِيرُوا عَلَى اسْمِ اللَّهِ“ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

زید بن وہب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب نہروان میں خوارج کا ظہور ہوا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے رفقاء میں کھڑے ہو کر کہا: ان لوگوں نے نا حق خون بہایااور انھوں نے لوگوں کے جانوروں کو لوٹا اور وہ تمہارے دشمنوں میں سے قریب ترین بھی ہیں، اندیشہ ہے کہ اگر تم اپنے دوسرے دشمن کی طرف جاؤ تو یہ تمہارے بعد باقی ماندہ افراد و اموال پر چڑھ آئیں گے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: میری امت میں ایسا گروہ بھی آئے گا کہ تمہاری نمازیں اور روزے ان کی نمازوں اور روزوں کے بالمقابل کچھ بھی نہ ہوں گی اور تمہاری تلاوت ان کی تلاوت کا مقابلہ نہیں کر سکے گی، وہ قرآن کو پڑھیں گے اور سمجھیں گے کہ یہ ان کے حق میں ہے، جبکہ درحقیقت وہ ان کے خلاف ہوگا اور وہ ان کے حلقوں سے نیچے تک نہیں اترے گا، وہ اسلام میں سے یوں نکل جائیں گے، جیسے تیر شکار میں سے کچھ نشان لیے بغیر گزر جاتا ہے، ان کی علامت یہ ہے کہ ان میں سے ایک آدمی کا بازو محض کہنی کے اوپر والا حصہ ہوگا اور کہنی سے نیچے والا حصہ نہ ہوگا اور وہ بھی پستان کی مانند ہو گا، اس پر کچھ سفید بال ہوں گے، اگر ان کو قتل کرنے والوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان سے اپنے عمل اور اس کے ثواب کا علم ہو جائے تو وہ اپنے اسی عمل پر کفایت کر کے اعمال کرنا چھوڑ دیں گے، پس تم اللہ کا نام لے کر چل پڑو۔ اس کے بعد باقی حدیث ذکر بیان کی۔

وضاحت:
فوائد: … جب خوارج کی سرکشی اور قتل وغارت حد سے بڑھ گئی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ شام پر فوج کشی کا ارادہ ملتوی کر کے ان خارجیوں کی تنبیہ کے لیے نہروان کا قصد کیا، نہروان پہنچ کر سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ اور سیدنا قیس بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو خارجیوں کے پاس بھیجا کہ وہ بحث و مباحثہ کر کے ان کو ان کی غلطی پر متنبہ کریں، جب ان دونوں کو ناکامی ہوئی تو خارجیوں کے ایک سردار ابن الکواء کو بلا کر خود ہر طرح سے سمجھایا، لیکن ان کے قلوب تاریک ہو چکے تھے، اس لیے ارشاد و ہدایت کی تمام کوششیں ناکام رہیں اور خلیفۃ المسلمین نے مجبور ہو کر فوج کو تیاری کا حکم دیا اور پھر نہروان کی جنگ پیش آئی، جس کی تفصیل ان احادیث میں بیان کی گئی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12372
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 1066 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 706 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 706»