الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْفَضْلُ الثَّانِي فِي صِفَةِ الْخَوَارِجِ وَعَلَامَةِ قَائِدِهِمْ و مهمهِمْ وَالأمْرِ بِقَتْلِهِمْ وَإِنَّ طَائِفَةً عَلَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْحَقِّ باب: فصل دوم: خوارج، ان کے قائد کی علامت اور ان کی خدمت اور اس کا بیان کہ ان کو قتل کرنے کا حکم ہے اور یہ بیان کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا گروہ بر حق تھا
عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ أَنَّ رَجُلًا وُلِدَ لَهُ غُلَامٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ بِبَشَرَةِ وَجْهِهِ وَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ قَالَ فَنَبَتَتْ شَعَرَةٌ فِي جَبْهَتِهِ كَهَيْئَةِ الْقَوْسِ وَشَبَّ الْغُلَامُ فَلَمَّا كَانَ زَمَنُ الْخَوَارِجِ أَحَبَّهُمْ فَسَقَطَتِ الشَّعَرَةُ عَنْ جَبْهَتِهِ فَأَخَذَهُ أَبُوهُ فَقَيَّدَهُ وَحَبَسَهُ مَخَافَةَ أَنْ يَلْحَقَ بِهِمْ قَالَ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَوَعَظْنَاهُ وَقُلْنَا لَهُ فِيمَا نَقُولُ أَلَمْ تَرَ أَنَّ بَرَكَةَ دَعْوَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ وَقَعَتْ عَنْ جَبْهَتِكَ فَمَا زِلْنَا بِهِ حَتَّى رَجَعَ عَنْ رَأْيِهِمْ فَرَدَّ اللَّهُ عَلَيْهِ الشَّعَرَةَ بَعْدُ فِي جَبْهَتِهِ وَتَابَسیدنا ابو طفیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص کے ہاں بیٹا پیدا ہوا، وہ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لے کر آ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے چہرے کا چمڑہ پکڑ کر اس کے حق میں برکت کی دعا کی، پس اس بچے کی پیشانی پر کمان کی مانند بال اگ آیا اور وہ بچہ جوان ہوگیا، جب خوارج کادور آیا تو وہ بچہ ان کی طرف مائل ہوا اور ان سے محبت کرنے لگا، تو اس کے چہرے کا وہ بال جھڑ گیا، یہ دیکھ کر اس کے والد نے اسے پکڑ کر قید کر کے محبو س کر دیا، اسے اندیشہ تھا کہ کہیں یہ ان کے ساتھ مکمل طور پر نہ مل جائے، سیدنا ابو طفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ہم اس کے پاس گئے اور جا کر وعظ نصیحت کی اور اپنی باتوں میں ہم نے اس سے یہ بھی کہاکہ کیا تم نہیں دیکھتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعاکی برکت تمہاری پیشانی سے جھڑ گئی ہے، ہم اسے مسلسل وعظ کرتے رہے تاآنکہ اس نے خوارج کی رائے سے رجوع کرلیا، اللہ تعالیٰ نے اس کی توبہ قبول کر لی اور اس کے بعد اس کی پیشانی پر بال دوبارہ اگ آیا۔