الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْفَضْلُ الثَّانِي فِي صِفَةِ الْخَوَارِجِ وَعَلَامَةِ قَائِدِهِمْ و مهمهِمْ وَالأمْرِ بِقَتْلِهِمْ وَإِنَّ طَائِفَةً عَلَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْحَقِّ باب: فصل دوم: خوارج، ان کے قائد کی علامت اور ان کی خدمت اور اس کا بیان کہ ان کو قتل کرنے کا حکم ہے اور یہ بیان کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا گروہ بر حق تھا
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ وَسَأَلَهُ هَلْ سَمِعْتَ فِي الْخَوَارِجِ مِنْ شَيْءٍ فَقَالَ سَمِعْتُ وَالِدِي أَبَا بَكْرَةَ يَقُولُ عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَلَا إِنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ أَشِدَّاءُ أَحِدَّاءُ ذَلِقَةٌ أَلْسِنَتُهُمْ بِالْقُرْآنِ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ أَلَا فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَأَنِيمُوهُمْ ثُمَّ إِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَأَنِيمُوهُمْ فَالْمَأْجُورُ قَاتِلُهُمْ“عثمان شحام سے مروی ہے،وہ کہتے ہیں: ہمیں مسلم بن ابی بکرہ نے بیان کیا کہ انہوں نے اس سے پوچھا کہ آیا انھوں نے خوارج کے متعلق کوئی حدیث سنی ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے اپنے والد سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کو سنا، انھوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! عنقریب میری امت سے کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو دینی امور میں سختی کرنے والے اور تیز ہوں گے، ان کی زبانیں قرآن کے ساتھ بڑی ماہر ہوں گی، مگر وہ ان کی ہنسلی کی ہڈیوں سے نیچے نہیں اترے گا، جب تم انہیں دیکھو تو قتل کر ڈالنا، پھر کہتاہوں کہ تم جب انہیں دیکھو تو ان کو قتل کر دینا، ان کو قتل کرنے والا اجر کا مستحق ہوگا۔