حدیث نمبر: 12368
عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ قَوْمًا يَكُونُونَ فِي أُمَّتِهِ يَخْرُجُونَ فِي فِرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ سِيمَاهُمُ التَّحْلِيقُ هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ أَوْ مِنْ شَرِّ الْخَلْقِ يَقْتُلُهُمْ أَدْنَى الطَّائِفَتَيْنِ مِنَ الْحَقِّ قَالَ فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ مَثَلًا أَوْ قَالَ قَوْلًا الرَّجُلُ يَرْمِي الرَّمِيَّةَ أَوْ قَالَ الْغَرَضَ فَيَنْظُرُ فِي النَّصْلِ فَلَا يَرَى بَصِيرَةً وَيَنْظُرُ فِي النَّضِيِّ فَلَا يَرَى بَصِيرَةً وَيَنْظُرُ فِي الْفُوقِ فَلَا يَرَى بَصِيرَةً قَالَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَأَنْتُمْ قَتَلْتُمُوهُمْ يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کے کچھ لوگوں کا ذکر کیا، جو امت میں افترق و اختلاف کے وقت ظاہر ہوں گے،ان کی نشانی یہ ہوگی کہ وہ سرمنڈاتے ہوں گے یہ مخلوق سے بدترین ہے۔ ان کو دو گروہوں میں حق کے زیادہ قریب گروہ قتل کرے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس موقع پر ایک مثال پیش کی کہ آدمی شکار پر تیر چلاتا ہے (وہ تیر شکار کے خون اور گوبر میں سے گزر کر گیا ہے) لیکن وہ تیر کے پھل پر کوئی چیز نہیں دیکھتا۔ اس کی لکڑی پر کوئی اثر نہیں دیکھتا۔ اس کی چٹکی پر کوئی نشان نہیں۔ (اس طرح قرآن مجید پڑھنے کا ان پر کوئی اثر نہیں ہو گا)

وضاحت:
فوائد: … عربوں کی عادت سر منڈانا نہیں تھا۔اہل عراق سے مراد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اصحاب ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12368
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 1064 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11018 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11031»