الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْفَضْلُ الثَّانِي فِي صِفَةِ الْخَوَارِجِ وَعَلَامَةِ قَائِدِهِمْ و مهمهِمْ وَالأمْرِ بِقَتْلِهِمْ وَإِنَّ طَائِفَةً عَلَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْحَقِّ باب: فصل دوم: خوارج، ان کے قائد کی علامت اور ان کی خدمت اور اس کا بیان کہ ان کو قتل کرنے کا حکم ہے اور یہ بیان کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا گروہ بر حق تھا
عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ قَوْمًا يَكُونُونَ فِي أُمَّتِهِ يَخْرُجُونَ فِي فِرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ سِيمَاهُمُ التَّحْلِيقُ هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ أَوْ مِنْ شَرِّ الْخَلْقِ يَقْتُلُهُمْ أَدْنَى الطَّائِفَتَيْنِ مِنَ الْحَقِّ قَالَ فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ مَثَلًا أَوْ قَالَ قَوْلًا الرَّجُلُ يَرْمِي الرَّمِيَّةَ أَوْ قَالَ الْغَرَضَ فَيَنْظُرُ فِي النَّصْلِ فَلَا يَرَى بَصِيرَةً وَيَنْظُرُ فِي النَّضِيِّ فَلَا يَرَى بَصِيرَةً وَيَنْظُرُ فِي الْفُوقِ فَلَا يَرَى بَصِيرَةً قَالَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَأَنْتُمْ قَتَلْتُمُوهُمْ يَا أَهْلَ الْعِرَاقِسیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کے کچھ لوگوں کا ذکر کیا، جو امت میں افترق و اختلاف کے وقت ظاہر ہوں گے،ان کی نشانی یہ ہوگی کہ وہ سرمنڈاتے ہوں گے یہ مخلوق سے بدترین ہے۔ ان کو دو گروہوں میں حق کے زیادہ قریب گروہ قتل کرے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس موقع پر ایک مثال پیش کی کہ آدمی شکار پر تیر چلاتا ہے (وہ تیر شکار کے خون اور گوبر میں سے گزر کر گیا ہے) لیکن وہ تیر کے پھل پر کوئی چیز نہیں دیکھتا۔ اس کی لکڑی پر کوئی اثر نہیں دیکھتا۔ اس کی چٹکی پر کوئی نشان نہیں۔ (اس طرح قرآن مجید پڑھنے کا ان پر کوئی اثر نہیں ہو گا)