الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْفَضْلُ الثَّانِي فِي صِفَةِ الْخَوَارِجِ وَعَلَامَةِ قَائِدِهِمْ و مهمهِمْ وَالأمْرِ بِقَتْلِهِمْ وَإِنَّ طَائِفَةً عَلَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْحَقِّ باب: فصل دوم: خوارج، ان کے قائد کی علامت اور ان کی خدمت اور اس کا بیان کہ ان کو قتل کرنے کا حکم ہے اور یہ بیان کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا گروہ بر حق تھا
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ فَقَالَ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ فِي الْحَرُورِيَّةِ شَيْئًا قَالَ سَمِعْتُهُ يَذْكُرُ قَوْمًا يَتَعَمَّقُونَ فِي الدِّينِ يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ عِنْدَ صَلَاتِهِمْ وَصَوْمَهُ عِنْدَ صَوْمِهِمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ أَخَذَ سَهْمَهُ فَنَظَرَ فِي نَصْلِهِ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ثُمَّ نَظَرَ فِي رُصَافِهِ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ثُمَّ نَظَرَ فِي قِدْحَتِهِ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا ثُمَّ نَظَرَ فِي الْقُذَذِ فَتَمَارَى هَلْ يَرَى شَيْئًا أَمْ لَاابو سلمہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی ابو سعید رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا اور اس نے کہا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حروریوں یعنی خوارج کی بابت کچھ بیان کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ دین میں بہت زیادہ باریکیوں اور گہرائی میں جائیں گے اور وہ اس قدر نیک ہوں گے کہ تم ان کے مقابلہ میں اپنی نمازوں کو اور اپنے روزوں کو معمولی سمجھو گے، لیکن وہ دین سے یوں صاف نکل جائیں گے، جیسے تیر شکار میں سے اس طرح تیزی کے ساتھ نکل جاتا ہے کہ شکاری اپنے تیر کو اٹھا کر اس کو دیکھتا ہے، لیکن اس میں کوئی اثر نظر نہیں آتا، پھر وہ اس کے پھل کا جائزہ لیتا ہے، لیکن وہ کوئی علامت دیکھ نہیں پاتا،پھر وہ اس کے بعد والے حصے کو دیکھتا ہے اس میں بھی کوئی اثر نظر نہیں آتا پھر پروں کو بھی اچھی طرح دیکھتا ہے، اور وہ اس بارے متردد ہو جاتا ہے کہ کیا کوئی اثر ہے یا نہیں۔