الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْفَضْلُ الثَّانِي فِي صِفَةِ الْخَوَارِجِ وَعَلَامَةِ قَائِدِهِمْ و مهمهِمْ وَالأمْرِ بِقَتْلِهِمْ وَإِنَّ طَائِفَةً عَلَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْحَقِّ باب: فصل دوم: خوارج، ان کے قائد کی علامت اور ان کی خدمت اور اس کا بیان کہ ان کو قتل کرنے کا حکم ہے اور یہ بیان کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا گروہ بر حق تھا
عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ إِنِّي دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ عِنْدَهُ أَحَدٌ إِلَّا عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَ ”يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ كَيْفَ أَنْتَ وَقَوْمَ كَذَا وَكَذَا“ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ ”قَوْمٌ يَخْرُجُونَ مِنَ الْمَشْرِقِ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مَرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ فَمِنْهُمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ كَأَنَّ يَدَيْهِ ثَدْيُ حَبَشِيَّةٍ“سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس وقت آپ کے پاس سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ دوسرا کوئی اور فرد نہیں تھا ، آپ نے فرمایا : اے ابن ابی طالب ! تمہارا اور فلاں فلاں قوم کا کیا بنے گا ؟ میں نے کہا : اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مشرق کی جانب سے کچھ لوگ نکلیں گے ، وہ قرآن تو پڑھیں گے ، مگر وہ ان کے سینوں کے نیچے نہیں اترے گا ، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے ، جیسے شکار میں سے تیر تیزی سے گزر جاتا ہے ، ان میں سے ایک آدمی ناقص ہاتھ والا ہو گا ، یوں محسوس ہو گا کہ اس کے ہاتھ کسی حبشی عورت کے پستان ہیں ۔