الفتح الربانی
كتاب الصلاة— نماز کی کتاب
بَابُ تَأْخِيرِ الصَّلُوةِ لِعُذْرِ الاشْتِغَالِ بِحَرْبِ الْكُفَّارِ وَنَسْخِ ذَلِكَ بِصَلُوةِ الْخَوْفِ وَالتَّرْتِيبِ فِي قَضَاءِ الْفَوَائِتِ وَالْآذَانِ وَالْإِقَامَةِ لِلْأُولَى وَالْإِقَامَةِ فَقَطْ لِكُلِّ فَائِتَةٍ بَعْدَهَا باب: کافروں کے ساتھ لڑائی کی مصروفیت کی وجہ سے نماز کو مؤخر کرنے، نمازِ خوف کی وجہ سے اس رخصت کے منسوخ ہو جانے، فوت شدہ نمازوں کو بالترتیب ادا کرنے، پہلی نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنے اور باقی ہر فوت شدہ نماز کے لیے صرف اقامت کہنے کا بیان
عَنْ مُحَمَّدٍ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَوْفٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا جُمُعَةَ حَبِيبَ بْنَ سِبَاعٍ وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْأَحْزَابِ صَلَّى الْمَغْرِبَ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: ((هَلْ عَلِمَ أَحَدٌ مِنْكُمْ أَنِّي صَلَّيْتُ الْعَصْرَ؟)) قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا صَلَّيْتَهَا، فَأَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ أَعَادَ الْمَغْرِبَسیدنا ابو جمعہ حبیب بن سباعؓ، جنھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پایا تھا، بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ احزاب والے سال نماز مغرب پڑھائی، پس جب اس سے فارغ ہوئے تو فرمایا: کیا تم میں سے کوئی جانتا ہے کہ میں نے عصر ادا کی تھی؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے نماز نہیں پڑھی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مؤذن کو حکم دیا، پس اس نے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ عصر پڑھائی اور پھر نمازِ مغرب کو دوبارہ ادا کیا۔