حدیث نمبر: 12358
عَنْ شَرِيكِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ كُنْتُ أَتَمَنَّى أَنْ أَلْقَى رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُنِي عَنِ الْخَوَارِجِ فَلَقِيتُ أَبَا بَرْزَةَ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقُلْتُ يَا أَبَا بَرْزَةَ حَدِّثْنَا بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ فِي الْخَوَارِجِ فَقَالَ أُحَدِّثُكَ بِمَا سَمِعَتْ أُذُنَايَّ وَرَأَتْ عَيْنَايَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِدَنَانِيرَ فَكَانَ يَقْسِمُهَا وَعِنْدَهُ رَجُلٌ أَسْوَدُ مَطْمُومُ الشَّعْرِ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَبْيَضَانِ بَيْنَ عَيْنَيْهِ أَثَرُ السُّجُودِ فَتَعَرَّضَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ فَلَمْ يُعْطِهِ شَيْئًا ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ خَلْفِهِ فَلَمْ يُعْطِهِ شَيْئًا فَقَالَ وَاللَّهِ يَا مُحَمَّدُ مَا عَدَلْتَ مُنْذُ الْيَوْمِ فِي الْقِسْمَةِ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَضَبًا شَدِيدًا ثُمَّ قَالَ ”وَاللَّهِ لَا تَجِدُونَ بَعْدِي أَحَدًا أَعْدَلَ عَلَيْكُمْ مِنِّي“ قَالَهَا ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ ”يَخْرُجُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ رِجَالٌ كَأَنَّ هَذَا مِنْهُمْ هَدْيُهُمْ هَكَذَا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ لَا يَرْجِعُونَ إِلَيْهِ وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِهِ سِيمَاهُمُ التَّحْلِيقُ لَا يَزَالُونَ يَخْرُجُونَ حَتَّى يَخْرُجَ آخِرُهُمْ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ قَالَهَا ثَلَاثًا شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ قَالَهَا ثَلَاثًا“ وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ لَا يَرْجِعُونَ فِيهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

شریک بن شہاب کہتے ہیں: میں تمنا کیا کرتا تھاکہ میری کسی ایسے صحابی سے ملاقات ہو جو مجھے خوارج کے متعلق بتلائے، اتفاق سے میری ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے عرفہ کے دن ملاقات ہوگئی، وہ اپنے کچھ ساتھیوں کے ہمراہ تھے، میں نے کہا: اے ابو برزہ! آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی ایسی حدیث بیان فرمائیں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خوراج کے متعلق بیان فرمایا ہو، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں دینار لا ئے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ تقسیم فرما رہے تھے، ایک سیاہ فام اور گنجا آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کھڑا تھا،جس نے دو سفید کپڑے زیب تن کیے ہوئے تھے اور اس کی آنکھوں کے درمیان سجدوں کے نشانات تھے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کی طرف سے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کوئی چیز نہ دی، پھروہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کی طرف سے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر بھی اسے کچھ نہ دیا، اس نے کہا: اللہ کی قسم! آپ نے آج کی تقسیم میں انصاف بالکل نہیں کیا، اس کی یہ بات سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شدید غضبناک ہوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! تم میرے بعد مجھ سے بڑھ کر کسی کو انصاف کرنے والا نہیں پاؤ گے۔ یہ بات آپ نے تین مرتبہ فرمائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مشرق کی جانب سے کچھ لوگ ظاہر ہوں گے، یہ آدمی گویا انہی لوگوں میں سے ہے وہ ایسے ہوں گے کہ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے سینے سے نیچے نہ اترے گا، وہ دین سے یوں نکل جائیں گے جسے شکار میں سے تیر صاف نکل جاتا ہے۔ اس سند کے ایک راوی حما د نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر یوں بیان کیاکہ: وہ لوگ دین کی طرف پلٹ کر نہیں آئیں گے، ان کی علامت یہ ہوگی کہ وہ سرمنڈاتے ہوں گے، وہ دین سے نکلتے جائیں گے، یہاں تک کہ ان کا آخری آدمی (دجال کے ساتھ) نکلے گا، تم انہیں دیکھو تو انہیں قتل کر دینا۔ یہ بھی آپ نے تین مرتبہ فرمایا: وہ سب لوگوں سے بدترین ہوں گے۔ یہ بات بھی آپ نے تین مرتبہ دہرائی۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12358
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره دون قوله: حتي يخرج آخرھم ، اخرجه النسائي: 7/ 119، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19783 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20021»