الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الفضلُ الْأَوَّلُ فِي أَصْلِ الْخَوَارِج باب: ششم: واقعہ نہروان اور وہاں پر خوارج کا قتل نیز خوارج کی مذمت اور ان کو قتل کرنے کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: خوارج کی بنیاد کا بیان
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ ”سَبَقَ الْفَرْثَ وَالدَّمَ“ مِنْهُمْ رَجُلٌ أَسْوَدُ فِي إِحْدَى يَدَيْهِ أَوْ قَالَ إِحْدَى ثَدْيَيْهِ مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ أَوْ مِثْلُ الْبَضْعَةِ تَدَرْدَرُ يَخْرُجُونَ عَلَى حِينِ فَتْرَةٍ مِنَ النَّاسِ فَنَزَلَتْ فِيهِمْ {وَمِنْهُمْ مَنْ يَلْمِزُكَ فِي الصَّدَقَاتِ} [التوبة: 58] الْآيَةَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَشْهَدُ أَنَّ عَلِيًّا حِينَ قَتَلَهُ وَأَنَا مَعَهُ جِيءَ بِالرَّجُلِ عَلَى النَّعْتِ الَّذِي نَعَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَسیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گزشتہ حدیث کی مانند روایت کی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ ان لوگوں میں ایک آدمی سیاہ فام ہوگا جس کا ایک بازو عورت کے پستان کی مانند ہوگا، یا یوں فرمایا کہ اس کا ایک باز و گوشت کے لوتھڑے کی مانند ہوگا اور حرکت کرتا ہوگا، یہ لوگ ایک زمانے میں نکلیں گے، انہی لوگوں کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئی: {وَمِنْہُمْ مَنْ یَلْمِزُکَ فِی الصَّدَقَاتِ} … اور ان میں کچھ لوگ صدقات کی تقسم میں آپ پر طعنہ زنی کرتے ہیں۔ سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے قتل کیا تو میں اس وقت ان کے ساتھ تھا اور وہ آدمی ویسا ہی تھاجیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمایا تھا۔