حدیث نمبر: 12356
عَنْ مِقْسَمٍ أَبِي الْقَاسِمِ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ خَرَجْتُ أَنَا وَتَلِيدُ بْنُ كِلَابٍ اللَّيْثِيُّ حَتَّى أَتَيْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ مُعَلِّقًا نَعْلَيْهِ بِيَدِهِ فَقُلْنَا لَهُ هَلْ حَضَرْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ يُكَلِّمُهُ التَّمِيمِيُّ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَالَ نَعَمْ أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ يُقَالُ لَهُ ذُو الْخُوَيْصِرَةِ فَوَقَفَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُعْطِي النَّاسَ قَالَ يَا مُحَمَّدُ قَدْ رَأَيْتُ مَا صَنَعْتَ فِي هَذَا الْيَوْمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَجَلْ فَكَيْفَ رَأَيْتَ“ قَالَ لَمْ أَرَكَ عَدَلْتَ قَالَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ ”وَيْحَكَ إِنْ لَمْ يَكُنِ الْعَدْلُ عِنْدِي فَعِنْدَ مَنْ يَكُونُ“ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَقْتُلُهُ قَالَ ”لَا دَعُوهُ فَإِنَّهُ سَيَكُونُ لَهُ شِيعَةٌ يَتَعَمَّقُونَ فِي الدِّينِ حَتَّى يَخْرُجُوا مِنْهُ كَمَا يَخْرُجُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ يُنْظَرُ فِي النَّصْلِ فَلَا يُوجَدُ شَيْءٌ ثُمَّ فِي الْقِدْحِ فَلَا يُوجَدُ شَيْءٌ ثُمَّ فِي الْفُوقِ فَلَا يُوجَدُ شَيْءٌ سَبَقَ الْفَرْثَ وَالدَّمَ“ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو عُبَيْدَةَ هَذَا اسْمُهُ مُحَمَّدٌ ثِقَةٌ وَأَخُوهُ سَلَمَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارٍ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ إِلَّا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَلَا نَعْلَمُ خَبَرَهُ وَمِقْسَمٌ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ وَلِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي هَذَا الْمَعْنَى وَطُرُقٌ أُخَرُ فِي هَذَا الْمَعْنَى صِحَاحٌ وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

مقسم ابو القاسم مولی عبداللہ بن حارث بن نوفل سے مروی ہے کہ میں اور تلید بن کلاب لیثی روانہ ہوئے اور ہم عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے، وہ اپنے جوتے ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے، میں نے ا ن سے کہا: کہ کیا آ پ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حنین کے دن اس وقت موجود تھے، جب ایک تمیمی آپ سے محو کلام تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں، بنوتمیم کاایک آدمی آیا تھا، جسے ذوالخویصر، کہا جاتا ہے: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آکر کھڑا ہوگیا، آپ اس وقت لوگوں میں عطیات تقسیم فرمارہے تھے، اس نے کہا: اے محمد آپ آج جو کام کر رہے ہیں، میں نے دیکھ لیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں تم نے کیا دیکھا ہے؟ اس نے کہا:میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ نے انصاف سے کام نہیں لیا، اس کی اس بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غضبناک ہوگئے اور فرمایا: تجھ پر افسوس ہے، اگر میرے پاس عدل نہیں تو اور کس کے پاس ہوگا؟ تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے گزارش کی: اللہ کے رسول! کیا ہم اسے قتل نہ کردیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں اسے چھوڑ دو، کچھ لوگ اس کے معاون ہوں گے اور وہ دین میں اس حد تک گہرائی میں جائیں گے کہ دین میں سے یوں نکل جائیں گے جیسے شکار میں سے تیر نکل جاتا ہے، تیرکو اچھی طرح دیکھیں تو اس کے کسی بھی حصہ پر خون کا نشان تک نہیں ہوتا، وہ خون اور گو بر کے درمیان سے تیزی سے نکل جاتا ہے۔ ابوعبدالرحمن نے کہا ہے: اس حدیث کے راوی ابو عبیدہ کا نام محمد ہے اور وہ ثقہ راوی ہے اس کے بھائی سلمہ بن محمد بن عمار سے صرف علی بن زید نے روایت حدیث کی ہے ہم اس کے حالات سے واقف نہیں، مقسم بھی مقبول راوی ہے۔ اس حدیث کے بہت سے طرق صحیح ہیں۔واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12356
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7038 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7038»