حدیث نمبر: 12354
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ سَاجِدٍ وَهُوَ يَنْطَلِقُ إِلَى الصَّلَاةِ فَقَضَى الصَّلَاةَ وَرَجَعَ عَلَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”مَنْ يَقْتُلُ هَذَا“ فَقَامَ رَجُلٌ فَحَسَرَ عَنْ يَدَيْهِ فَاخْتَرَطَ سَيْفَهُ وَهَزَّهُ ثُمَّ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي كَيْفَ أَقْتُلُ رَجُلًا سَاجِدًا يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ قَالَ ”مَنْ يَقْتُلُ هَذَا“ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ أَنَا فَحَسَرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ وَاخْتَرَطَ سَيْفَهُ وَهَزَّهُ حَتَّى أُرْعِدَتْ يَدُهُ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ كَيْفَ أَقْتُلُ رَجُلًا سَاجِدًا يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ قَتَلْتُمُوهُ لَكَانَ أَوَّلَ فِتْنَةٍ وَآخِرَهَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

مسلم بن ابی بکرہ اپنے سے والد بیان کرتے ہیں: کہ ایک آدمی سجدہ کی حالت میں تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پا س سے گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اس وقت نماز کے لیے تشریف لے جارہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز ادا کرنے کے بعد واپس ہوئے تووہ ابھی تک سجدہ ہی میں تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رک گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے کون قتل کرے گا،؟ تو ایک آدمی نے اٹھ کر اپنے بازوں سے آستین اوپر کو چڑھائی اور تلوار نکال کر اسے لہرایا، پھر کہا: اللہ کے نبی میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر فدا ہوں، میں کیونکر ایسے آدمی کو قتل کروں جو سجدہ میں ہے اور اللہ کی وحدانیت اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اللہ کے بندے اور رسول ہونے کی شہادت دیتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: اسے کون قتل کرے گا؟ تو ایک آدمی نے کھڑے ہو کر کہا: میں، پھر اس نے اپنے آستین چڑھا لیے اور تلوار نکال کر اس قدر لہرایا کہ اس کا ہاتھ کانپنے لگا، اس نے کہا: اللہ کے نبی! میں کیونکر ایسے آدمی کو قتل کروں جو سجدہ کی حالت میں ہے اور وہ اللہ کی توحید اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اللہ کے بندے اور اللہ کے رسول ہونے کی شہادت دیتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … حافظ ابن حجر نے (فتح الباری: ۱۲/ ۲۹۹) میں اس حدیث کے شواہد ذکر کیے اور یہ استدلال کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس شخص کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا، یہ ذوا لخویصرہ یا ابن ذو الخویصرۃ تھا، یہ وہی آدمی تھا، جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تقسیم پر اعتراض کیا تھا،
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12354
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «رجاله رجال الصححيح، لكن في متنه نكارة، وقد تفرد به مسلم بن ابي بكرة عن ابيه، وعثمان الشحام عن مسلم بن ابي بكرة، وعثمان وثقه غير واحد، لكن قال فيه يحيي القطان: تعرف وتنكر، ولم يكن عندي بذاك، وقال النسائي: ليس بالقوي، وقال في موضع آخر: ليس به بأس، اخرجه ابن ابي عاصم في السنة : 938 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20431 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20703»