الفتح الربانی
كتاب الصلاة— نماز کی کتاب
بَابُ تَأْخِيرِ الصَّلُوةِ لِعُذْرِ الاشْتِغَالِ بِحَرْبِ الْكُفَّارِ وَنَسْخِ ذَلِكَ بِصَلُوةِ الْخَوْفِ وَالتَّرْتِيبِ فِي قَضَاءِ الْفَوَائِتِ وَالْآذَانِ وَالْإِقَامَةِ لِلْأُولَى وَالْإِقَامَةِ فَقَطْ لِكُلِّ فَائِتَةٍ بَعْدَهَا باب: کافروں کے ساتھ لڑائی کی مصروفیت کی وجہ سے نماز کو مؤخر کرنے، نمازِ خوف کی وجہ سے اس رخصت کے منسوخ ہو جانے، فوت شدہ نمازوں کو بالترتیب ادا کرنے، پہلی نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنے اور باقی ہر فوت شدہ نماز کے لیے صرف اقامت کہنے کا بیان
عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ (عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ الْمُشْرِكِينَ شَغَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنْ أَرْبَعِ صَلَوَاتٍ حَتَّى ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ، قَالَ: فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَسیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ مشرکوں نے غزوہ ٔ خندق والے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چار نمازوں سے مشغول کر دیا، یہاں تک کہ رات کا کچھ حصہ بھی، جتنا اللہ کو منظور تھا، گزر گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا بلالؓ کو حکم دیا، پس انھوں نے اذان کہی اور پھر اقامت کہی، پس آپ نے نمازِ ظہر پڑھائی، پھر انھوں نے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ عصر پڑھائی، پھر انھوں نے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز مغرب پڑھائی اور پھر انھوں نے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ عشا پڑھائی۔