الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْفَضْلُ الأول في شُجَاعَةِ عَمَّارٍ وَقَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ: «تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» باب: پنجم: جنگ صفین اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی شہادت اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی شجاعت کا بیان اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ان کے بارے میں فرمانا کہ ایک باغی گروہ عمار کو قتل کرے گا
عَنْ أَبِي غَادِيَةَ قَالَ قُتِلَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ فَأُخْبِرَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”إِنَّ قَاتِلَهُ وَسَالِبَهُ فِي النَّارِ“ فَقِيلَ لِعَمْرٍو فَإِنَّكَ هُوَ ذَا تُقَاتِلُهُ قَالَ إِنَّمَا قَالَ ”قَاتِلَهُ وَسَالِبَهُ“ابو غادیہ کہتے ہیں: جب سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے اور لوگوں نے سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع دی تو انہوں نے کہا: میں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کو قتل کرنے والا اور ان کے قتل کے بعد ان کے سامان کو قبضہ میں لینے والا جہنم میں جائے گا۔ کسی نے سیدنا عمر و رضی اللہ عنہ سے کہا: تم خود بھی تو ان ہی سے لڑ رہے ہو؟ انہوں نے جواباً کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے قاتل اور ان کا مال قبضہ میں کر لینے والے کے حق میں یہ فرمایا ہے۔