الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْفَضْلُ الأول في شُجَاعَةِ عَمَّارٍ وَقَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ: «تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» باب: پنجم: جنگ صفین اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی شہادت اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی شجاعت کا بیان اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ان کے بارے میں فرمانا کہ ایک باغی گروہ عمار کو قتل کرے گا
عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا قُتِلَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ دَخَلَ عَمْرُو بْنُ حَزْمٍ عَلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقَالَ قُتِلَ عَمَّارٌ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ“ فَقَامَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فَزِعًا يُرَجِّعُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ مَا شَأْنُكَ قَالَ قُتِلَ عَمَّارٌ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ قَدْ قُتِلَ عَمَّارٌ فَمَاذَا قَالَ عَمْرٌو سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ“ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ دُحِضْتَ فِي بَوْلِكَ أَوَ نَحْنُ قَتَلْنَاهُ إِنَّمَا قَتَلَهُ عَلِيٌّ وَأَصْحَابُهُ جَاءُوا بِهِ حَتَّى أَلْقَوْهُ بَيْنَ رِمَاحِنَا أَوْ قَالَ بَيْنَ سُيُوفِنَامحمد بن عمروبن حزم سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو سیدنا عمر و بن حزم رضی اللہ عنہ ، سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور انہیں بتلایاکہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے ہیں، جبکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھاکہ ایک باغی گروہ عمار کو قتل کرے گا۔ یہ سن کر سیدنا عمروبن عاص رضی اللہ عنہ گھبرا گئے اور اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھتے ہوئے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گئے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کی حالت دیکھ کر پوچھا: تمہیں کیا ہوا ہے؟ انہوں نے بتلایا کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے ہیں، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: عمار قتل ہوگئے تو پھر کیا ہوا؟ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوفرماتے سنا ہے کہ ایک باغی گروہ عمار کو قتل کرے گا۔ یہ سن کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تم اپنے پیشاب میں پھسلو، کیا ہم نے اس کو قتل کیاہے؟ اسے تو علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے مروایا ہے، وہ لوگ انہیں لے آئے اور لا کر ہمارے نیزوں یا تلواروں کے درمیان لا کھڑا کیا۔