حدیث نمبر: 12345
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”وَيْحَ عَمَّارٍ تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ يَدْعُوهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ وَيَدْعُونَهُ إِلَى النَّارِ“ قَالَ فَجَعَلَ عَمَّارٌ يَقُولُ أَعُوذُ بِالرَّحْمَنِ مِنَ الْفِتَنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: افسوس کہ عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا، یہ ان کو جنت کی طرف بلائے گا، لیکن وہ اس کو جہنم کی طرف بلا رہے ہوں گے۔ یہ سن کر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کہنے لگے:میں فتنوں سے رحمان کی پناہ چاہتا ہوں۔

وضاحت:
فوائد: … جنگ صفین، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے مابین ہوئی تھی، اگرچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ برحق تھے، لیکن سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تابعین کے علاوہ صحابۂ کرام کی ایک جماعت بھی موجود تھی، تو ان کے حق میں اس ارشادِ نبوی کا کیا مفہوم ہو گا کہ وہ جہنم کی طرف بلا رہے ہوں گے؟ حافظ ابن حجر نے کہا: جواب یہ ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے لشکر کا گمان یہ تھا کہ وہ جنت کی طرف بلا رہے ہیں، جبکہ وہ مجتہد تھے اور اپنے ظن پر عمل کر رہے تھے، اس لیے ان پر ملامت نہیں کی جا سکتی، مراد یہ ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا گروہ اپنے مخالفین کو جنت کے سبب یعنی خلیفہ کی اطاعت کی طرف بلا رہا تھا، جبکہ خلیفہ کی اتباع واجب تھی اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا گروہ اپنے مخالفین کو اس کے برعکس یعنی خلیفہ کی بغاوت کی طرف بلا رہے تھے، لیکن ان کو ان کی تاویل کی روشنی میں معذور سمجھا جائے گا۔ (فتح الباری: ۱/ ۵۴۲)
آسان لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ بغاوت ایک جرم ہے اور ہر جرم جہنم کا سبب ہے، لیکن اگر بغاوت کرنے والا کسی اجتہاد اور تاویل کی روشنی میں اپنی بغاوت کو درست سمجھ رہا ہو تو وہ معذور ہو گا اور اس کے بارے میں صرف یہ کہا جائے گا کہ اس سے خطا ہو گئی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 12345
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البخاري: 447، 2812، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11861 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11883»