الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْفَضْلُ الأول في شُجَاعَةِ عَمَّارٍ وَقَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ: «تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» باب: پنجم: جنگ صفین اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی شہادت اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی شجاعت کا بیان اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ان کے بارے میں فرمانا کہ ایک باغی گروہ عمار کو قتل کرے گا
حدیث نمبر: 12344
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ مَا زَالَ جَدِّي يَعْنِي خُزَيْمَةَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَافًّا سِلَاحَهُ يَوْمَ الْجَمَلِ حَتَّى قُتِلَ عَمَّارٌ بِصِفِّينَ فَسَلَّ سَيْفَهُ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
محمد بن عمارہ کہتے ہیں: میرا دادا سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نے جنگ جمل کے دن اپنا اسلحہ روکے رکھا، یہاں تک کہ جب صفین میں سیدنا عمار رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے، تو انہوں نے اپنی تلوار نکالی اور شہید ہونے تک لڑتے رہے، انہوں نے وجہ یہ بیان کی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک باغی گروہ عمار کوقتل کرے گا۔