الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْفَضْلُ الأول في شُجَاعَةِ عَمَّارٍ وَقَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ: «تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ» باب: پنجم: جنگ صفین اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی شہادت اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی شجاعت کا بیان اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ان کے بارے میں فرمانا کہ ایک باغی گروہ عمار کو قتل کرے گا
عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَمَةَ يَقُولُ رَأَيْتُ عَمَّارًا يَوْمَ صِفِّينَ شَيْخًا كَبِيرًا آدَمَ طُوَالًا آخِذًا الْحَرْبَةَ بِيَدِهِ وَيَدُهُ تَرْعَدُ فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ قَاتَلْتُ بِهَذِهِ الرَّايَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَهَذِهِ الرَّابِعَةُ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ ضَرَبُونَا حَتَّى يَبْلُغُوا بِنَا شَعَفَاتِ هَجَرَ لَعَرَفْتُ أَنَّ مُصْلِحِينَا عَلَى الْحَقِّ وَأَنَّهُمْ عَلَى الضَّلَالَةِعبداللہ بن سلمہ سے مروی ہے، وہ کہتے تھے: میں نے جنگ صفین کے روز سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ بہت بوڑھے ہو چکے تھے، ان کا رنگ گندمی اور قد طویل تھا، وہ اپنے ہاتھ میں نیزہ تھامے ہوئے تھے اور ان کا ہاتھ کانپ رہا تھا، انہوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اس جھنڈے کے ساتھ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں تین جنگیں لڑچکا ہوں، آج چوتھی جنگ ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!اگر یہ لوگ ہمیں مار مار کر ہجر کے پہاڑوں کی طرف مار بھگائیں، تب بھی میں جانتا ہوں کہ ہماری اصلاح کرنے والے حق پر اور دوسرے گمراہی کی راہ پر ہیں۔