الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْفَصْلُ الثَّالِثُ فِي بَعْثِ عَلِيٌّ عَمَّارًا وَالْحَسَن رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْا لِاسْتِنْفَارِ أَهْلِ الْكُوفَةِ باب: فصل سوم: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا سیدنا عمار اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہما کو اہل کوفہ کی طرف بھیجنا، تاکہ وہ ان سے لڑائی میں شریک ہونے کا مطالبہ کریں
حدیث نمبر: 12342
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ قَالَ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ جَدِّ أَبِيهِ الْمُخَارِقِ قَالَ لَقِيتُ عَمَّارًا يَوْمَ الْجَمَلِ وَهُوَ يَبُولُ فِي قَرْنٍ فَقُلْتُ أُقَاتِلُ مَعَكَ فَأَكُونُ مَعَكَ قَالَ قَاتِلْ تَحْتَ رَايَةِ قَوْمِكَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَحِبُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يُقَاتِلَ تَحْتَ رَايَةِ قَوْمِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مخارق سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں جنگ ِ جمل والے دن سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو ملا، جبکہ وہ سینگ میں پیشاب کر رہے تھے، میں نے کہا: میں تمہارے ساتھ مل کر لڑنا چاہتا ہوں، اس طرح تمہارے ساتھ رہوں گا، لیکن انھوں نے کہا: تو اپنی قوم کے جھنڈے کے نیچے رہ کر لڑائی کر، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ پسند کیا کرتے تھے کہ آدمی اپنی قوم کے جھنڈے کے نیچے رہ کر قتال کرے۔
وضاحت:
فوائد: … اس طرح کرنے سے مجاہد دلیری سے لڑتا ہے۔
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد امت مسلمہ دو گروہوں میں بٹ گئی، ایک گروہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا حامی تھا، جو کہ خلیفۂ برحق تھا اور دوسرا گروہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، ان کے اختلاف کی بنیاد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلین سے قصاص لینا تھا، جبکہ ان قاتلین نے اپنے آپ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حامیوں میں ظاہر کر رکھا تھا۔
ذہن نشین رہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا نظریہ یہ تھا کہ علی الفور قاتلین ِ عثمان سے قصاص لیا جائے، جبکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس معاملے میں کچھ تاخیر کے قائل تھے اور حالات کی نزاکت کو سامنے رکھتے ہوئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا موقف اقرب الی الصواب تھا۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ادائیگیٔ حج کے بعد مدینہ منورہ کی طرف واپس آنے کی بجائے عراق کا رخ کر لیا، تاکہ قاتلینِ عثمان سے قصاص لیا جا سکے۔
قصاص کی بنیاد پر وجود پانے والی ان آویزشوں کا انجام امت مسلمہ کی باہمی لڑائیوں کی صورت میں ظاہر ہوا، اس سلسلہ کی ایک کڑی جنگ جمل ہے۔
اردو خوان طبقہ تفصیل کے لیے تاریخ اسلام از اکبر شاہ نجیب آبادی اور خلفائے راشدین از شاہ معین الدین ندوی کا مراجعہ کریں۔
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد امت مسلمہ دو گروہوں میں بٹ گئی، ایک گروہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا حامی تھا، جو کہ خلیفۂ برحق تھا اور دوسرا گروہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، ان کے اختلاف کی بنیاد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلین سے قصاص لینا تھا، جبکہ ان قاتلین نے اپنے آپ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حامیوں میں ظاہر کر رکھا تھا۔
ذہن نشین رہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا نظریہ یہ تھا کہ علی الفور قاتلین ِ عثمان سے قصاص لیا جائے، جبکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس معاملے میں کچھ تاخیر کے قائل تھے اور حالات کی نزاکت کو سامنے رکھتے ہوئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا موقف اقرب الی الصواب تھا۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ادائیگیٔ حج کے بعد مدینہ منورہ کی طرف واپس آنے کی بجائے عراق کا رخ کر لیا، تاکہ قاتلینِ عثمان سے قصاص لیا جا سکے۔
قصاص کی بنیاد پر وجود پانے والی ان آویزشوں کا انجام امت مسلمہ کی باہمی لڑائیوں کی صورت میں ظاہر ہوا، اس سلسلہ کی ایک کڑی جنگ جمل ہے۔
اردو خوان طبقہ تفصیل کے لیے تاریخ اسلام از اکبر شاہ نجیب آبادی اور خلفائے راشدین از شاہ معین الدین ندوی کا مراجعہ کریں۔