الفتح الربانی
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت و امارت کے مسائل
الْفَصْلُ الثَّالِثُ فِي بَعْثِ عَلِيٌّ عَمَّارًا وَالْحَسَن رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْا لِاسْتِنْفَارِ أَهْلِ الْكُوفَةِ باب: فصل سوم: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا سیدنا عمار اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہما کو اہل کوفہ کی طرف بھیجنا، تاکہ وہ ان سے لڑائی میں شریک ہونے کا مطالبہ کریں
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ عَنْ قَيْسٍ قَالَ قُلْتُ لِعَمَّارٍ أَرَأَيْتُمْ صَنِيعَكُمْ هَذَا الَّذِي صَنَعْتُمْ فِيمَا كَانَ مِنْ أَمْرِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَأْيًا رَأَيْتُمُوهُ أَمْ شَيْئًا عَهِدَ إِلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَمْ يَعْهَدْ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ كَافَّةً وَلَكِنَّ حُذَيْفَةَ أَخْبَرَنِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”فِي أَصْحَابِي اثْنَا عَشَرَ مُنَافِقًا مِنْهُمْ ثَمَانِيَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ“۔ (دوسری سند) قیس کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے کہا: تم لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حق میں جو کچھ کہہ رہے ہو، ذرا اس کے متعلق یہ تو بتلاؤ کہ یہ تمہاری اپنی رائے ہے یا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہیں اس بارے میں کچھ ہدایات دی ہیں؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں الگ سے کوئی ایسا حکم نہیں دیا، جو عام لوگوں کو نہ دیا ہو، البتہ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے ساتھیوں میں بارہ منافق ہوں گے، ان میں آٹھ جنت میں ہرگز نہیں جاسکیں گے، یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے نکے میں سے گزر جائے۔